ارضِ بلال

by Other Authors

Page 216 of 336

ارضِ بلال — Page 216

ارض بلال- میری یادیں ) میں کچھ شکوک وشبہات ہیں۔اگر مناسب سمجھیں تو مجھ سے پوچھ لیں۔کہنے لگا دوکان میں تو جگہ مناسب نہیں ہے۔میں نے کہا جہاں آپ مناسب سمجھتے ہیں وہاں بیٹھ جاتے ہیں لیکن اس نے کترانا شروع کر دیا۔پھر اس کے ساتھیوں نے اسے ابھارا تو غصہ سے کھڑا ہو گیا اور میرا بازو پکڑ کر بازار کی ایک طرف کھلے میدان میں لے گیا اور اونچی اونچی آواز میں بولنے لگ پڑا۔چند منٹ میں سینکڑوں لوگ اکٹھے ہو گئے۔خیر ہماری بات چیت عربی زبان میں شروع ہوگئی۔اس کا انداز وہی تھا جو ایک پاکستانی مولوی کا ہوتا ہے۔دراصل یہ وہ سعودیہ سے سیکھ کر آیا تھا۔ایک گھنٹہ تک بات چیت ہوتی رہی، وہ غصہ سے بولتا۔میں جواب دینے سے پہلے ہر بار درود شریف پڑھتا۔اس کا لوگوں پر بہت اثر ہوتا۔اس صورت حال میں اس کا غیض و غضب دیدنی تھا۔اتنے میں چند لوگوں نے صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر بحث ختم کروادی اور وہ استاذ چلا گیا۔میں ادھر ہی کھڑا رہا اور اس دوران مختلف لوگ میرے پاس آتے رہے۔مجھ سے جماعت کے بارے میں سوالات پوچھتے رہے۔ایک آدمی ایک طرف کھڑا باتیں سن رہا تھا۔جب سب لوگ چلے گئے ، وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں احمدی ہونا چاہتا ہوں۔کیونکہ میں نے آپ لوگوں کی بحث سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آپ سچے ہیں۔حالانکہ یہ بات چیت عربی زبان میں ہو رہی تھی اور یہ آدمی ایک سادہ سا زمیندار تھا جو اپنی ساری زندگی میں کبھی بھی سکول نہ گیا ہوگا۔اس کا گاؤں نڈوفان سے قریب ہی تھا۔پھر خدا تعالی کے فضل سے اس کے گاؤں میں کافی بیعتیں ہوگئیں۔اس واقعہ کے چند ماہ بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” گیمبیا میں میرے علاقہ میں تشریف لائے۔اس میں یہ دوست بھی حاضر ہوئے۔کئی دن تک وقار عمل کرتے رہے اور خلافت حقہ کی نعمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جس پر وہ ہمیشہ ہی فخر کیا کرتے تھے۔مولانا سعدی نے اسی قسم کا ایک بہت خوبصورت واقعہ بیان فرمایا ہے۔لکھتے ہیں : ایک شہر میں روزانہ ایک عدالت لگتی تھی جس میں فریقین اپنے اپنے دلائل 216