ارضِ بلال

by Other Authors

Page 201 of 336

ارضِ بلال — Page 201

۔میری یادیں استاذ احمد لی صاحب 1984ء میں سینیگال کے ایک عربی استاذ مکرم احمد لی صاحب کو جماعت احمدیہ کے معلم مکرم حامد امبائی صاحب کے ذریعہ قبول احمدیت کی سعادت ملی۔بیعت کے بعد انہوں نے جماعت میں بطور معلم کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔مکرم امیر صاحب نے ان کی درخواست منظور فرمالی اور انہیں بطور معلم رکھ لیا۔چونکہ ابھی نئے نئے نور احمدیت سے منور ہوئے تھے اس لئے انکی جماعتی تعلیم و تربیت کی خاطر محترم امیر صاحب نے انہیں چند ماہ کے لیے خاکسار کے پاس بصے کے علاقہ میں بھجوا دیا۔ان سے میل ملاقات ہوئی۔مکرم احمد لی صاحب کو میں نے بہت ہی نیک فطرت اور صالح نو جوان پایا۔بتاتے ہیں کہ ان کا رشتہ سینیگال کی مشہور ومعروف مذہبی اور روحانی شخصیت مکرم شیخ عمر فوطی کے خانوادہ سے ہے۔( شیخ فوطی کے بارے میں بعض جہلاء کا عقیدہ ہے کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ غائب ہو گئے ہیں ) احمد لی صاحب طویل قدوقامت کے نوجوان ،شرعی چہرہ ، پابند صوم وصلوٰۃ کے علاوہ شب بیداری کے زیور سے بھی آراستہ ہیں۔لوکل زبان فولانی کے علاوہ وولف بھی خوب بولتے ہیں۔پھر ان زبانوں کے علاوہ عربی بول چال میں بھی خاصی دسترس رکھتے ہیں۔دراصل یہ نوجوان سینیگال کے ایک قصبہ پوڈور کے رہنے والے ہیں اور یہ قصبہ دریائے سینیگال کے کنارے پر واقع ہے۔یادر ہے یہ دریا دو ملکوں کے درمیان دریائی سرحد ہے جسے دنیا کی طویل ترین دریائی سرحد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔اس دریا کے دوسری جانب موریطانیہ کی سرزمین ہے جو ایک عرب مملکت ہے اور وہاں کے لوگ عربی بولتے ہیں۔آج کے متمدن دور میں بھی ان کا رہن سہن ، بود و باش ، عادات و خصائل اور طرز لباس پرانے وقتوں کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔اس دریائی سرحد کے اطراف میں بسنے والے لوگ چھوٹی چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ سے دونوں ممالک میں آتے جاتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں سینیگال کے ان سرحدی علاقوں کے باسیوں کی طرز معاشرت، عام بول چال اور روز مرہ کی زندگانی پر ان کے ہمسایوں کے گہرے نقوش ہیں۔ان 201