ارضِ بلال — Page 186
ارض بلال۔میری یادیں مختلف موضوعات پر تقاریر کی گئیں۔اس کے بعد سوال وجواب کا ایک دلچسپ سلسلہ شروع ہوا۔لیکن اس دوران اسی گاؤں کا ایک نو جون جو غالباً جرمنی میں رہتا تھا اور ان دنوں ادھر آیا ہوا تھا۔اس نے نہایت سوقیانہ طریق سے ہماری میٹنگ کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی اور اس دوران اس نے نہایت غیر مہذب اور ناشائستہ زبان استعمال کی جس سے جلسہ کا ماحول پراگندہ ہو گیا۔اس دوران گاؤں کے بعض شرفا نے بات ختم کرا دی اور کہا اب کافی دیر ہو چکی ہے اس لئے آپ لوگ بھی میٹنگ ختم کر دیں۔ہمیں اس صورت حال پر کافی رنج و ملال تھا۔ہم نے جلسے کیلئے اختتامی دعا کا اعلان کیا اس پر اہل قریہ نے درخواست کی کہ کافی دنوں سے بارش نہیں ہوئی اس لئے زمیندار بھائی خاصے پریشان ہیں۔از راہ کرم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں ابر رحمت سے نوازے۔اس پر ہم لوگوں نے بڑی رقت کے ساتھ اجتماعی دعا شروع کی اور باقی حاضرین بھی شامل ہو گئے۔وہ نوجوان اور اس کے چند ایک چیلے چانٹے غصہ کے عالم میں اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ہم لوگ دعا کے بعد واپس بصے کی طرف روانہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے قدرت کاملہ دکھائی اور اس نے اپنے فضل سے ہمارے دکھی دلوں کی پکار سنی۔ابھی ہم اپنے گھر تک نہ پہنچے تھے کہ اس قدر تیز بارش ہوئی کے ہمارے لئے گھر پہنچنا دشوار ہو گیا۔اس طرح اللہ تعالی کے وعدہ وَاِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَلَى فَإِنِّي قَرِيب کا وعدہ اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے ہوئے دیکھا۔یوں اچانک ابر رحمت کی آمد ہم سب کے ازدیاد ایمان کا سبب بنی اور گاؤں والوں نے بھی جماعت احمدیہ کے ساتھ خدائی تائید ونصرت کا عجیب و غریب اور ایمان افروزہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔خیر نصف رات کے بعد جب ہم ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچے، تو کافی تھک گئے تھے۔ڈاکٹر صاحب کہنے لگے اب کافی دیر ہو گئی ہے اس لئے بہتر ہے کہ آپ ادھر ہی سوجائیں۔خیر میں ادھر ہی سو گیا۔صبح سویرے میں گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک نو جوان ایک چھوٹی بچی کے ساتھ کلینک 186