ارضِ بلال — Page 155
ارض بلال- میری یادیں ) چلے آرہے ہیں۔انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے: جرمنی میں جماعت کے جلسہ سالانہ 1995ء میں شمولیت کے لئے ممبرز آف پارلیمنٹ کا ایک وفد تشکیل دیا گیا اس سلسلہ میں مکرم احمد مختار صاحب سے رابطہ قائم کیا گیا، وہ تیار ہو گئے۔اسی دوران انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے کہ میں ایک نہایت ہی نورانی چہرہ والے بزرگ وجود کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں اور وہ میرے لئے دعا کر رہے ہیں اور وہ بزرگ افریقن نہیں ہیں اور نہ ہی زندگی میں کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہے اور انہوں نے مجھ سے کوئی بات بھی کی ہے اور یہ خواب انہوں نے کونخ سے ڈا کار جاتے ہوئے دوران سفرا اپنی کار میں اپنے ڈرائیور اور اپنی بیٹی کو بھی سنائی۔چنانچہ اسی روز ان کو جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔جب یہ وفد سینیگال سے جرمنی پہنچا۔اس وقت حضور انور من ہائم میں جلسہ کی تیاری کا معائنہ کرنے کے سلسلہ میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ہمارا وفد سیدھا جلسہ گاہ میں لے جایا گیا۔جب حضور انور کو وفد کی آمد کی اطلاع ملی تو حضور انور ادھر تشریف لائے اور جملہ ممبرز حضرات کو شرف مصافحہ بخشا۔جب حضور انور نے مکرم احمد مختار نڈاؤ صاحب سے مصافحہ کیا تو ان کے منہ سے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ یہ تو وہی بزرگ ہیں جو میں نے خواب میں دیکھے تھے۔ایک اور اتفاق دیکھئے۔جب عالمی بیعت ہو رہی تھی تو مکرم احمد مختارنڈ ا ؤ صاحب کو بالکل حضور انور کے قدموں میں جگہ ملی۔بعد از دعا حضور نے خاکسار سے دریافت فرمایا کہ یہ دوست کون ہیں۔سوائے ان کے کسی اور ممبر کے بارے میں حضور نے اس وقت استفسار نہیں فرمایا۔خواب کے ذریعہ عرفان صداقت خاکسار کی رہائش اب لندن میں ہے۔اس لئے سینیگالی احباب جماعت سے کبھی کبھار رابطہ ہو جاتا ہے۔گذشتہ دنوں مجھے ایک نوجوان کا سینیگال سے فون آیا۔اس نے بتایا کہ میں واگان فائی بول رہا ہوں۔اس پر انہوں نے میری بیمار پرسی کی۔فجزاہ اللہ۔نیز انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالی نے 155