ارضِ بلال

by Other Authors

Page 148 of 336

ارضِ بلال — Page 148

ارض بلال- میری یادیں ) میرے پاس ڈا کار میں بھجوایا تا کہ ان کے لئے کسی چھوٹی موٹی ملازمت کا انتظام کر دوں۔اس وقت اس نوجوان کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی۔میں نے اسے مشن ہاؤس میں بطور خادم رکھ لیا۔اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ نوجوان نہایت ایمان دار اور بہت مخلص ہونے کے ساتھ بہت محنتی اور ذہین بھی ہے۔سفر ہے شرط میں نے اسے ایک روز سمجھایا کہ دیکھو تم مشن میں خادم کا کام چھوڑ کر اپنی عمر اور تعلیم کے مطابق کام تلاش کرو تو تمہارے لئے بہت بہتر ہوگا۔کیونکہ یہ کام تو کوئی معمولی پڑھا لکھ اور بوڑھا آدمی بھی کر سکتا ہے۔اس لئے میں نہیں چاہتا کہ تم ساری عمر اس جگہ بیٹھ کر اپنی استعدادوں کو ضائع کرو۔اس کو میں نے کافی سمجھایا لیکن اسے ایک خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے جا کر کہیں اور کام نہ ملے کیونکہ میرے پاس تو اسے کھانے کے ساتھ رہائش کی بھی سہولت میسر تھی جو بڑے شہروں میں بڑی نعمت ہوتی ہے۔میں نے اسے کہا کہ تم جا کر کہیں بھی کام تلاش کرو۔لیکن اس دوران تمہارے قیام وطعام کا انتظام میرے پاس رہے گا، تم اس کی فکر نہ کرو۔خیر اس نوجوان نے کچھ چھوٹا موٹا سامان خریدا اور مختلف گلیوں اور بازاروں میں چکر لگا کر اسے بیچنا شروع کر دیا۔اب اس نے محسوس کیا کہ میرا یہ کام پہلے کام سے تو بہت بہتر ہے۔آزادی بھی ہے، مختلف لوگوں سے تعلقات اور دوستی میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور پھر شہر کی گلیوں کو چوں سے بھی آشنائی شروع ہوگئی ہے۔پھر کام سے فراغت کے بعد مشن ہاؤس میں آکر ہمارے ساتھ نمازیں ادا کرتا اور اگر کوئی جماعتی خدمت ہوتی تو وہ بھی بخوشی سرانجام دے دیتا۔وصیت کی تحریک میں نے اسے ایک روز سمجھایا کہ برخوردار اگر تم اپنے مالی حالات میں کشائش چاہتے ہو تو پھر اللہ میاں کے ساتھ سودا کرو۔کہنے لگا وہ کیسے؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم اس کے راستہ 148