ارضِ بلال — Page 146
ارض بلال۔میری یادیں داستان مکرم عثمان دابوصاحب - اخلاص و وفا کا پتلا 1988ء میں حضرت امیر المؤمنین خلیفہ امسیح الرابع ” گیمبیا کے تاریخی دورہ پر تشریف لائے۔انہی دنوں مرکز نے گیمبیا مشن کو تین کاریں جاپان مشن کی وساطت سے بھجوائیں۔اب ان تین کاروں کے لئے ڈرائیوروں کی فوری ضرورت تھی۔احمد یہ ہسپتال کے ڈرائیور Saini نے بتایا کہ اس کا ایک بھتیجا انہی دنوں گنی بساؤ سے آیا ہے۔اس کا نام Ousman Darbo ہے۔وہ ڈرائیونگ جانتا ہے۔لیکن لا مذہب ہے۔آپ اسے چیک کر لیں۔مکرم امیر صاحب نے اسے بلا یا تو معلوم ہوا کہ وہ گنی بساؤ کی زبان کے علاوہ صرف منڈ نگا زبان بول سکتا ہے۔اب حضور انور کے دورہ کے پیش نظر ڈرائیور فوری چاہیئے تھا۔اس لئے اسے عارضی طور پر رکھ لیا اور اسے مکرم حفیظ احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ جارج ٹاؤن کے پاس بھیج دیا۔حضور انور کے دورہ کی تیاری کے سلسلہ میں اس نے حفیظ احمد صاحب کے ساتھ بہت سے مقامات کے دورے کئے۔اس عرصہ میں دیکھا گیا کہ وہ نو جوان بہت نیک فطرت تابعدار اور ڈرائیونگ میں بھی خاصا ماہر ہے۔اس کے بعد مکرم حفیظ احمد شاہد صاحب کی تحریک پر اس نے بیعت کرلی اور پھر وہ مستقل جماعت کے خدمت گزاروں میں شامل ہو گیا۔پھر اس نے مکرم داؤد احمد حنیف صاحب کے ساتھ لمبا عرصہ کام کیا۔ان کے بعد خاکسار کے ساتھ بھی بطور ڈرائیور بڑے اخلاص ، وفا اور ایمانداری کے ساتھ کام کیا۔میں جب جہاں کہیں بھی دورہ پر جاتا ، جس قدر رقم میرے پاس ہوتی، میں سفر کے آغاز میں ہی اس کے سپر دکر دیتا۔سارے اخراجات ، ادائیگیاں وغیرہ وہی کرتا اور واپس آکر پائی پائی کا حساب مجھے دے دیتا۔مجھے کبھی بھی اس مسئلہ میں پریشانی نہیں ہوئی۔وہ نوجوان جو لا مذہب تھا، احمدیت کے نور سے منور ہو گیا۔بہت زیادہ محنتی تھا۔ان پڑھ اور غیر ملکی تھا۔اس نے یہاں آکر انگریزی زبان سیکھی اور اکاؤنٹس سیکھے۔اب جماعت احمدیہ کی بہت ساری اہم ذمہ داریاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔اسے ہر فرد جماعت بہت زیادہ قابل اعتماد سمجھتا 146