ارضِ بلال — Page 143
ارض بلال- میری یادیں) اتنے میں ڈاکٹر صاحب نے اتفاق سے مجھے دیکھ لیا، باہر آئے اور مجھے اندر لے گئے۔شام کو مسجد میں ان سے ملاقات ہوئی۔بات کرتے کرتے بے اختیار رو پڑتے اور خدا تعالیٰ کے افضال و برکات کو بیان کرتے تھے کہ یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے کا ثمرہ ہے۔خدا تعالی نے دین بھی دے دیا عزت و احترام بھی دیا اور پھر دنیا وی نعمتوں سے بھی باقی اہل خاندان کے مقابل پر بہت زیادہ نوازا۔انی معین من اراد اعانتك كا كیا خوب اظہار ہے۔محمد جونجی دیبا صاحب ( سابق صدر جماعت فرافینی ) کے سفر احمدیت کی داستان فرامینی جماعت کے ایک بہت ہی مخلص اور فدائی احمدی مکرم محمد جو نجی دیبا صاحب میرے ایک بہت ہی پیارے دوست تھے۔چند سال قبل راہی ملک عدم ہو چکے ہیں۔فرافینی شہر میں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں یکساں مقبول انسان تھے۔اپنے قصبہ کے نمبردار اور علاقہ بھر میں ایک با اثر سیاسی اور سماجی وجود تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک بارعب اور دلنواز شخصیت سے نواز رکھا تھا۔قبول احمدیت جب اس علاقہ میں جماعت احمدیہ کا نفوذ ہوا تو ہر طرف جماعت کے خلاف باتیں ہونی شروع ہو گئیں۔مخالفین نے جماعت کے خلاف ہر قسم کا زہریلا پراپیگینڈہ شروع کر دیا۔لیکن چونکہ آپ ایک نیک فطرت نو جوان تھے۔انہوں نے جذبات میں آنے کی بجائے بڑے تحمل و برد باری اور غور وفکر کے ساتھ جماعت کے بارے میں جماعت کے لوگوں سے باتیں سنیں اور جب آپ کا دل مطمئن ہو گیا تو آپ نے بلا خوف و خطر بڑے اطمینان قلب کے ساتھ بیعت کر لی۔یہ آپ کے آغاز جوانی کا ابتدائی دور تھا۔اس زمانہ کے حالات کے موافق کوئی قابل ذکر تعلیم تو حاصل نہ کی تھی مگر خدا تعالی نے اپنے فضل سے حکمت و فراست کی نعمت سے نواز ا ہوا تھا۔ان کے والد گاؤں کے معززین میں شمار ہوتے تھے اور یہ قصبہ ان کے خاندان کی ہی ملکیت تھا۔اس لئے انہی کا قبیلہ سیاسی اثر ورسوخ اور طاقت وقوت کے بل بوتے پر جماعت کی شدید مخالفت میں پیش پیش تھا۔143