ارضِ بلال — Page 127
ارض بلال۔میری یادیں ہم لوگ تفصیل سے بات چیت کرتے رہتے۔ایک دفعہ ان کے ایک دوست مکرم عثمان چام صاحب ان کے ہمراہ میرے پاس آئے۔دو دن میرے پاس رہے۔اس دوران ان سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔جس پر اللہ تعالی نے ان پر حق کھول دیا اور انہوں نے بیعت کر لی۔اس کے بعد اپنے گاؤں کو چلے گئے۔ان کے بڑے بھائی گاؤں کے نمبر دار تھے۔انہوں نے دیکھا کہ اب عثمان اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے۔پہلے تو نماز بھی نہیں پڑھتا تھا۔ایک دن بڑے بھائی نے پوچھا کہ تم گھر پر نماز کیوں پڑھتے ہو؟ اس نے بتایا کہ میں اب احمدی ہوں۔اس کے بھائی کو جماعت کے بارے میں کوئی زیادہ علم نہیں تھا۔مخالفین جماعت سے یہی سن رکھا تھا کہ یہ لوگ کافر ہیں ، بڑے خطرناک لوگ ہیں۔بڑے بھائی نے از راہ ہمدردی عثمان کو کہا کہ بے شک تم کوئی اور مذہب اختیار کر لومگر احمدی نہ بنو، یہ جماعت ٹھیک نہیں ہے۔عثمان نے بتایا کہ بھائی صاحب دیکھیں میں پہلے نماز روزہ نہیں کرتا تھا۔اب میں با قاعدہ نمازیں پڑھتا ہوں، دیگر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ سب احمدیت نے ہی تو مجھے سکھایا ہے۔خیر بھائی نے نرمی اور سختی سب حربے آزمائے مگر بیسود! اس خاندان کا تعلق تیجانی فرقہ سے تھا۔ان کے بھائی صاحب اپنے علما کے پاس گئے اور بتایا کہ میرا بھائی کا فر ہو گیا ہے۔اسے آکر آپ لوگ سمجھا ئیں۔اس فرقہ کے مرابو ( مولوی ) عثمان کے گھر آئے اور اس سے بات چیت شروع کی اور کہا ، سنا ہے تم نے اپنا مذہب بدل لیا ہے ! عثمان نے بتایا کہ میں اب احمدی ہو گیا ہوں۔انہوں نے کہا آپ کے عقائد کیا ہیں۔عثمان نے کلمہ طیبہ پڑھا اور اپنے عقائد اختصار سے بیان کیے۔وہ کہنے لگے کہ ہمارے بھی تو یہی عقائد ہیں۔آخر فرق کیا ہے؟ اس نے بتایا میں امام مہدی علیہ السلام کو مانتا ہوں۔اس پر وہ کہنے لگے۔اچھا تم یہ بتاؤ، کیا قرآن شریف میں کہیں لکھا ہوا ہے کہ امام مہدی آئیں گے؟ عثمان کہنے لگا ہاں لکھا ہوا ہے۔مرابو کہنے لگا، ذرا ہمیں دکھاؤ کہاں لکھا ہوا ہے؟ عثمان کہنے لگا، جس آیت میں لکھا ہے کہ شیخ تیجان آئیں 127