ارضِ بلال

by Other Authors

Page 235 of 336

ارضِ بلال — Page 235

ارض بلال- میری یادیں ) چار پائی کا ان جگہوں پر تصور ہی نہیں ہے۔لکڑیاں جوڑ کر اس کا بیڈ بنا لیتے ہیں اور پھر بوری نما کپڑا لے کر اس میں گھاس ڈال کر گدا بنا لیتے ہیں۔شروع میں مربیان بھی یہی گدا استعمال کرتے تھے۔ہم لوگ کئی دن تک لگا تار سفر کرتے رہے۔رات کبھی کسی کے صحن میں صف ڈال کر سو جاتے کبھی کار میں ہی رات بسر کر لی۔ایک رات کو لخ کے قریب ایک گاؤں پلاڈو میں بعد از عشاء میٹنگ کی۔رات بارہ بجے کے بعد میٹنگ ختم ہوئی۔اس گاؤں کے قریب برلب سڑک ایک احمدی نوجوان رہتا تھا۔یہ نوجوان سیر پر قبیلہ میں سے تھا۔ان لوگوں کے گھر قدرے بہتر ہوتے ہیں۔ہم نے اسے کہا کہ اگر ممکن ہو تو ہم لوگ آپ کے گھر میں رات بسر کر لیں۔اس نے بخوشی اجازت دے دی۔خیر ہم اپنے کمرے میں آئے اور اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے۔کافی دنوں کے تھکے ہوئے تھے۔پہلی بار قدرے پر سکون اور آرام دہ جگہ سونے کے لئے ملی تھی۔اس لئے جلد ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہی نوجوان ہمارے پاس آیا۔اور خاصا پریشان لگ رہا تھا۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کی ایک بہن حالت زچگی میں ہے اور بہت تکلیف میں ہے۔موت وزیست کی حالت میں ہے۔اس لئے آپ لوگ اس کے لئے کوئی دوا دار و کریں یا کوئی وظیفہ اور دعا وغیرہ کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت زدہ کی مشکل آسان فرما دے۔اب رات کے اس پہر کسی ٹرانسپورٹ کا حصول تو ان کے لئے بالکل ناممکن تھا۔پھر اگر کہیں سے کوئی گاڑی مل بھی جائے تو پھر یہ غریب لوگ اس کا خرچ کہاں ادا کر سکتے تھے۔اس طرف ہم لوگ بھی کئی دنوں سے لگا تار عالم سفر میں تھے جس کی وجہ سے تھکاوٹ اور نیند کا بھاری غلبہ تھا۔کیونکہ کافی دنوں کے بعد قدرے مناسب اور آرام دہ کمرہ سونے کے لئے ملا تھا۔میں نے مکرم داؤد احمد حنیف صاحب کو ساری صورت حال بتائی اور اہل خانہ کی مدد کے لئے درخواست کی اس پر وہ فورا تیار ہو گئے۔ہم لوگ رات کو تقریباً تین بجے اس عورت کو لے کر کو نخ پہنچے، اسپتال میں اسے داخل کرایا۔کچھ مالی مددبھی کی اور 235