ارضِ بلال — Page 234
ارض بلال۔میری یادیں ) سے مقامات پر بیعتیں ہو گئیں۔اس علاقہ کے دوممبر پارلیمنٹ بھی احمدی ہو گئے۔اس پر مجھے بار بار ان لوگوں نے ان کے ہاں آنے کی دعوت دی۔اس پر ایک دفعہ میں اس علاقہ میں دورہ پر گیا۔میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ، سب سے پہلے ہم نے سار ماری میں جانا ہے۔خیر ہم وہاں پہنچے۔صرف چند ٹوٹے پھوٹے گھرانے تھے۔وہاں ایک درخت کے نیچے ہم نے اپنے مصلے بچھا لیے۔اس دوران گاؤں کے کچھ مردوزن بھی آگئے۔میں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ آج سے بیس سال پہلے میں اور احمد کی صاحب اس گاؤں میں احمدیت کا پیغام لے کر بڑی مشکلات سے آئے تھے اور کسی بھی آدمی نے صدائے حق پر لبیک نہیں کہا تھا۔لیکن ہم مایوس نہیں ہوئے تھے اور آج اس خالق و مالک نے اس علاقے کے دل ہمارے لئے کھول دیئے ہیں۔اس لئے ہم اس کے حضور اسی گاؤں میں اسی مقام پر سجدہ شکر بجالانا چاہتے ہیں۔جہاں ہم میں سال پہلے آئے تھے اس پر سب حاضرین اور شرکاء پر بہت نیک اثر ہوا۔خدمت خلق ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مکرم داؤد احمد حنیف صاحب اور خاکسار ایک تبلیغی اور تربیتی پروگرام کے تحت سینیگال کے علاقہ کو لخ کی جماعتوں کا دورہ کر رہے تھے۔ان دنوں اس علاقہ میں دورہ جات کے دوران دن گزارنا تو اس قدر مشکل نہ ہوتا تھا کیونکہ انسان دن میں تو مصروف رہتا ہے۔سفر وحضر، لوگوں سے میل ملاقات، اور پھر متفرق پروگرام چلتے رہتے ہیں۔جس کے باعث دن کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔لیکن اس کے برعکس رات گزارنا ایک بہت ہی مشکل امر ہوتا تھا۔ان دنوں سینیگال میں جماعتیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔پھر ان احمدی بھائیوں میں سے اکثریت دیہات میں تھی جو اکثر فولانی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، جن کا پیشہ جانور پالنا ہے اور پھر تھوڑی بہت زمینداری بھی کر لیتے ہیں۔ان کے گھر کچی اینٹوں کے بھی نہیں ہوتے بلکہ گھاس پھونس کے ہوتے ہیں اور صرف اس قدر ہوتے ہیں کہ بمشکل ان کی اپنی فیملی کے ممبرز ہی اس میں سرسما سکتے ہیں۔234