عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 82 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 82

مد نظر رکھا جائے تو قدیم اشعار کی بعض تراکیب اور جملوں کا قرآن کریم میں آنا مورد اعتراض نہیں ٹھہرتا۔ہیں: لفظی اشتراک اور تضمین سرقہ نہیں علامہ ابن رشیق اپنی کتاب العُمْدَةُ فِي مَحاسِنِ الشَّعْرِ وَآدَابِهِ میں لکھتے 99 عنترة ، وَمِمَّا يُعَدُّ سَرَقًا وَلَيْسَ بسَرَقَ اشْتِرَاكُ اللَّفْظِ الْمُتَعارَفِ كَقَوْل 66 یعنی الفاظ متعارفہ کا اشتراک سرقہ میں داخل نہیں ہے۔اور پھر اس کی امثلہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جیسے عنترہ کا قول ہے: وَخَيلٍ قَد دَلَفتُ لَها بِخَيلٍ عَلَيْهَا الْأُسدُ تَهْتَصِرُ اهْتِصارا اور قول عمرو بن معدیکرب یوں ہے : وَخَيلٍ قَد دَلَفتُ لَهَا بِخَيلٍ تَحِيَّةُ بَينِهِمْ ضَرْبٌ وَجِيْعُ اور قول خنساء یہ ہے : وَخَيلٍ قَد دَلَفتُ لَهَا بِخَيلٍ فَدَارَتْ بَيْنَ كَبْشَيْهَا رَحَاهَا 82