عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page viii
علمائے صرف و نحو کی مؤلفات کو بڑی عرقریزی سے کھنگالا اور بعض نئے شواہد کے اضافے سے اعتراضات کے جوابات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔بعد ازاں انہوں نے ان جوابات کے ایک بڑے حصہ کو الْإِيْجَازُ فِي مَظَاهِرِ الْإِعْجَازِ فِي لُغَةِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَالْمَهْدِي الْمَعْهُوْدِ سَيِّدِنَا أَحْمَد عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَأَزْكَى السَّلام“ کے عنوان سے کتابی شکل میں بھی جمع کر دیا۔معترضین کے اعتراضات اور ڈاکٹر ایمن صاحب کے جوابات کو پڑھنے سے عربی زبان کے خداداد علم کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو اس کتاب کے شروع میں یکجائی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت کو بشدت محسوس کیا گیا۔حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی اجازت سے یہ مضمون تیار ہوا جس میں ریسرچ سیل ربوہ سے آمدہ مواد کے علاوہ مکرم ڈاکٹر ایمن صاحب کی تحقیق سے بھی استفادہ کیا گیا۔حضور انور ایدہ اللہ نے اس مضمون کو ملاحظہ فرمانے کے بعد اسے مزید بہتر بنانے کے لئے ہدایات ارشاد فرمائیں جن میں اسے مختلف عرب اور غیر عرب علماء کو دکھانے اور انکی تجاویز سے استفادہ کرنے کا بھی ارشاد شامل تھا۔چنانچہ اس بارہ میں استاذی المکرم را نا تصور احمد خان صاحب، مکرم عبد المؤمن طاہر صاحب، مکرم ڈاکٹر ایمن عودہ صاحب اور مکرم محمد شریف عودہ صاحب نے 2