عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 81 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 81

نیز قرآن میں آتا ہے: إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا * وأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا) (الزلزال: ۲-۳) جبکہ امرؤ القیس کہتا ہے: إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا تَقُومُ الأَنَامُ عَلَى رِسْلِهَا لِيَوْمِ الْحِسَابِ تَرَى حَالَهَا يُحَاسِبُهَا مَلِكٌ عَادِلٌ فَإِمَّا عَلَيْهَا وَإِمَّا لَهَا (فيض القدير شرح الجامع الصغير لعبد الرؤوف المناوي، جلد٢ صفحة ١٨٧) یہ وہ چند مثالیں ہیں جن کے بارے میں مخالفین اسلام کا خیال ہے کہ یہ الله فقرات یا تراکیب قرآن کریم کے نزول سے پہلے معروف تھیں اور نعوذ باللہ محمد علی ایم نے وہاں سے چرا کر قرآن کریم میں شامل کر لیں۔دوسرے معنوں میں وہ قرآن کریم کے پرانی کتب سے سرقہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔آج کے معترضین بھی انہی کی روش اختیار کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عربی کلام پر ایسے ہی اعتراضات کرتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گذشتہ سطور میں مذکور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل کو 81>