عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 47
مَدَارُ البَلاغَةِ عَلَى هَذِهِ القاعِدَةِ فَهَذَا هُوَ مِعْيارُ الكَلِماتِ الصَّاعِدَةِ فِي سَماءِ البَلاغَةِ الراعِدَةِ، فَلَا حَرَجَ أَنْ يَكُونَ لَفْظُ مِنْ غَيْرِ النِّسَانِ به مَقْبُولًا فِي أَهْل البَيانِ، بَلْ رُبَّمَا يَزِيدُ البَلاغَةَ مِنْ هَذَا النَّهْجِ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ، بَلْ يَسْتَمْلِحُونَهُ فِي بَعْض المقاماتِ، وَيَتَلَذَّذونَ أَهْلُ الأفانين۔وَلَكِنَّكَ رَجُلٌ غَمْرٌ جَهُولٌ، وَمَعَ ذَلِكَ مُعَانِدٌ وَعَجُولٌ، فَلِأَجْلِ ذَلِكَ مَا تَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ حِقْدِكَ وَجَهْلِكَ، وَمَا تَضَعُ قَدَمًا إِلَّا فِي دَحْلِكَ، وَلَا تَدْرِي مَا لِسانُ العَرَب وَمَا الفَصاحَةُ، وَلَا تَصْدُرُ مِنْكَ إِلَّا الوَقاحَةُ وَمَا لُقَنتَ إِلَّا سَبَّ الْمُطَهَّرَيْنَ» (نور الحق، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۴۹-۱۵۰) (اردو ترجمه منقوله از کتاب نور الحق) اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ قرآن میں بعض ایسے الفاظ ہیں کہ وہ زبان قریش کے مخالف ہیں سو یہ بات تیری سراسر جہل اور نفسانی جوش سے ہے اور بصیرت کی راہ سے نہیں۔اے نبی اور سفلہ نادان تجھے معلوم ہو کہ فصاحت کا مدار الفاظ مقبولہ پر ہوا کرتا ہے خواہ وہ کلمات قوم کی اصل زبان میں سے ہوں یا ایسے کلمات منقولہ ہوں جو بلغاء قوم کے استعمال میں آ گئے ہوں، اور خواہ وہ ایک ہی قوم کی لغت میں سے ہوں اور ان کے دائمی محاورات میں سے ہوں یا ایسے الفاظ اُن میں مل گئے ہوں، جو قوم کے بلغاء کو شیریں معلوم ہوئے اور