عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 46 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 46

عربی زبان کی فصاحت کے بارے میں قاطع بیان عربی زبان کی فصاحت کے بارے میں بھی سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔اس کے بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت شافی بیان درج فرمایا ہے۔ایک معترض نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم میں غیر عربی الفاظ موجود ہیں، اس کا جواب دیتے ہوئے حضور علیہ السلام نے عربی زبان کی فصاحت کے بارے میں ایک کلیدی نقطہ بیان فرمایا جسے آج کے علماء بھی ماننے پر مجبور ہیں اور عربی زبان کی فصاحت کی حقیقت سمجھنے کے لیے یہ ایک نہایت اہم نقطہ ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: " وَأَمَّا مَا ظَنَنْتَ أَنَّ فِي القُرْآنِ بَعْضَ أَلْفَاظَ غَيْرِ لِسَانِ قُرَيْشٍ، فَقَدْ قُلتَ هَذَا اللَّفْظَ مِنْ جَهِلٍ وَطَيْشٍ، وَمَا كُنْتَ مِنْ الْمُتَبَصِّرِينَ۔أَيُّهَا الغَبِيُّ وَالْجَهولُ الدَّيُّ ، إِنَّ مَدارَ الفَصاحَةِ عَلَى أَلْفَاظِ مَقْبُولَةٍ سَوَاءً كَانَتْ مِنْ لِسانِ القَوْمِ أَوْ مِنْ كَلِمٍ مَنْقُولَةٍ مُسْتَعْمَلَةٍ فِي بُلَغَاءِ القَوْمِ غَيْر مَجْهولَةٍ، وَسَوَاءٌ كَانَتْ مِنْ لُغَةِ قَوْمِ وَاحِدٍ وَمِن مُحاوَرَاتِهِمْ عَلَى الدَّوَامِ، أَوْ خَالَطَهَا أَلْفَاظُ اسْتِحْلَاهَا بُلَغَاءُ القَوْمِ، وَاسْتَعْمَلُوهَا فِي النظم والنَّقْرِ مِنْ غَيْرِ مَخافَةِ اللَّوْمِ ، مُختَارِينَ غَيْرِ مُضْطَرِّينَ۔فَلَمَّا كَانَ 46