عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 32 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 32

لغات عرب میں سے قرار پاتے ہیں جنہیں بادی النظر میں سہو یا خطا سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں اس طرح کی مثالیں آتی ہیں تو ہم جواز کے طور پر لکھتے ہیں کہ یہ فلاں قبیلہ کی لغت ہے اس لیے درست ہے۔یہ ایک دفاعی موقف ہے ، لیکن اگر حضور علیہ السلام کے دعوئی میں یہ بات واضح طور پر بیان کر دی جائے کہ ان تمام لغات کا حضور علیہ السلام کو علم دیا گیا تھا اور اس کا ظہور آپ کے کلام میں فلاں فلاں مقام پر ہوا ہے ، تو یہ بات آپ علیہ السلام کے خدا داد علم کا ثبوت اور آپ کی کامل وسعت علمی اور عظمت کی دلیل بن جاتی ہے۔مثلاً ہمزہ کی تخفیف اور اسے یاء سے بدلنا جیسے بریئون کی بجائے بریون اور بٹر کی بجائے بیر وغیرہ لکھنے کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں بہت زیادہ ہیں اور لغات عرب سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فصیح لغت ہے۔اسی طرح الفاظ کو ان کے معنوں پر حمل کرتے ہوئے تذکیر و تانیث لانے کی مثالیں بھی حضور علیہ السلام کے کلام میں بہت زیادہ ہیں۔جیسے آپ نے عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی کتاب التبلیغ میں تحریر فرمایا ہے کہ "يَا أَهْلَ أَرْضِ النُّبوَّةِ وَجِيرَانَ بَيْتِ اللَّهِ العُظْمَى 66 32