عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 30 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 30

۱۰۔ان اسباب میں سے ایک بڑا سبب مختلف کلمات کے متضاد معانی اخذ کرنے کا ہے۔مثلاً حمیٹر قبیلہ کی زبان میں شب کا مطلب ہے بیٹھ جا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ عامر بن طفیل رسول کریم صلی ال نیم کے پاس آئے تو ذکر ہے کہ وقلم فَوَتَّبَهُ وسادة یعنی آپ صلی الم نے ان کے لیے تکیہ وغیرہ لگا کر بیٹھنے کی جگہ تیار کی اور انہیں اس پر بٹھایا۔اسی لیے حمیر قبیلہ کی لغت میں الوِثَاب چٹائی وغیرہ کو کہتے ہیں جسے بچھا کر اس پر لوگ بیٹھتے ہیں۔لیکن اس کے برعکس بعض دوسرے قبائل میں یہ لفظ چھلانگ لگانے کے معنے میں استعمال ہوتا تھا۔زید بن عبد اللہ بن دارم کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حمیر کے ایک بادشاہ سے ملنے کے لیے گیا جبکہ وہ ایک پہاڑ پر قیام پذیر تھا۔بادشاہ نے اسے کہا تب یعنی بیٹھ جا۔جبکہ زید نے یہ سمجھا کہ بادشاہ اسے پہاڑ سے چھلانگ لگانے کا کہہ رہا ہے۔چنانچہ اس نے کہا کہ اے بادشاہ تو مجھے اطاعت گزاروں میں پائے گا۔یہ کہہ کر اس نے پہاڑ سے چھلانگ لگا دی اور ہلاک ہو گیا۔تلخیص از المزهر للسيوطي النوع السادس عشر، معرفة مختلف اللغة) 307