عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 124
میں انکے آنسو جاری دیکھتا ہوں۔فاضل ہیں عالم ہیں ادیب ہیں خاکسار ہیں لیکن افسوس کہ آپ کو بے بنیاد عمر کا فکر نہیں کیا اچھا ہو تا کہ محبت کے ساتھ دینی فکر میں مشغول ہوتے اور مدد گاروں میں شامل ہو جاتے اور مجھے راحت پہنچاتے اور اس کا اجر راحت دیکھتے مثلاً رسالہ نور الحق لاہور میں چھپ رہا ہے اور یہ کسی خود نمائی کی غرض سے نہیں بلکہ محض ان پلید عیسائیوں کا منہ بند کرنے کے لئے ایک ہتھیار ہے جو قرآن شریف پر ٹھٹھا اور اس پاک کلام کی فصاحت پر حملہ کر رہے ہیں مگر میں قادیان میں ہوں اور لاہور میں چھپتا ہے۔لاہور میں کوئی آدمی ایسا نہیں کہ پروف کو بھی دیکھ سکے اور للہ محنت کرے اور اس میں غور کرے اور کوئی غلطی ہو تو درست کر سکے۔آخر پروف میرے پاس آتا ہے اور بیمار طبع ہوں کوئی محنت کا کام مجھ سے نہیں ہو سکتا ادنی توجہ سے درد سر شروع ہو جاتا ہے پھر غلطی رہنے کا احتمال ہوتا ہے۔بعض ادیب دوست ہیں وہ بھی خدمات سے خالی نہیں اور ہمیشہ پاس نہیں رہ سکتے ایک عرب صاحب محض محط لکھنے کے لئے مقرر ہیں وہ دوسرا کام نہیں کر سکتے ان باتوں کے خیال سے دل بہت دکھتا ہے۔مجھے اس کی کیا غرض کہ میں نفسانی دعویٰ کروں اور اگر کوئی اس عزت کو لینے والا ہو سب عزت اس کو دے دوں مگر دینی [124]