عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 98 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 98

م الله سة میرے پر بطور وحی القا ہو وہ کسی عربی یا انگریزی یا سنسکرت کی کتاب میں درج ہو کیونکہ میرے لئے وہ غیب محض ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بہت سے توریت کے قصے بیان کر کے ان کو علم غیب میں داخل کیا ہے کیونکہ وہ قصّے آنحضرت صلی لی عوام کے لئے علم غیب تھا گو یہودیوں کے لئے وہ غیب نہ تھا۔پس یہی راز ہے جس کی وجہ سے میں ایک دنیا کو معجزہ عربی بلیغ کی تفسیر نویسی میں بالمقابل بلاتا ہوں ورنہ انسان کیا چیز اور ابن آدم کی کیا حقیقت کہ غرور اور تکبر کی راہ سے ایک دنیا کو اپنے مقابل پر بلاوے۔“ (نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۵-۴۳۶) خلاصہ یہ کہ ادباء کے نزدیک معروف اقتباس، کسب کردہ علم سے آتا ہے اور جو اقتباس کر رہا ہوتا ہے اسے علم ہوتا ہے کہ وہ کس ادیب کا کتنا قول اور کلام اقتباس کے طور پر اپنے مضمون میں درج کر رہا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس خداداد ملکہ ہے کیونکہ اکثر آپ کو لکھتے وقت معلوم ہی نہیں ہو تا کہ یہ فقرہ یا فقرات فلاں مؤلف کے ہیں یا فلاں کتاب سے ہیں بلکہ وہ آپ کے لیے علم غیب کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ فلاں فقرہ فلاں کتاب میں بھی ہے۔اور اقتباس کی یہ نوعیت اپنی ذات میں یکتا ہے جو صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاصہ ہے۔98