عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 35 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 35

وَيْهَكَ ابنَ سُمَيَّة تو اس نہج پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا محجّة الاهتداء کو'' کی بجائے 'ہ' سے بدل کر مهجة الاهتداء لکھنا عين اسلوب عرب اور لغات عرب کے مطابق بنتا ہے اور اس پر اعتراض کرنے والا لغات عرب کے مضمون سے اپنی جہالت کا ثبوت دے رہا ہو تا ہے۔نیز حضور علیہ السلام کی کتاب حجة اللہ میں ایک لفظ حوجاء آیا ہے اور مذکورہ بالا اسلوب کے مطابق یہاں بھی ح کوہ سے بدلا ہوا تصور کیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اصل میں ھو جاء ہے جس کی 'ہ' کو 'ح' سے بدل کر حوجاء لکھا گیا ہے جو ایک فصیح لہجہ ہے اور لغات عرب میں سے ایک معروف لغت ہے۔اسی طرح حضور علیہ السلام کی عربی کتب میں دیگر کئی ایسی قدیم عربی لغات بھی پائی جاتی ہیں جو آج کی عربی تحریرات میں نا پید ہیں۔چند مثالیں پیش خدمت ہیں : ا۔عربی زبان میں دیگر زبانوں کے برعکس واحد وجمع کے علاوہ دو کے عدد (یعنی مثنی ) کے بھی علیحد و قوائد ہیں۔عربی میں مٹی یا مثنیہ الف یا الف ونون کے ساتھ آتا ہے۔مثلاً جنۃ" کا شنی، جنتان ہو گا یعنی دو جنتیں یا دو باغ۔یہ اس کی رفع کی حالت ہے۔جبکہ نصب اور جر کی حالت میں 35