عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 34
ہی کسی لغت کے تحت یہاں جرثومة سے جرْمُوثَة بننا بھی ممکن ہے۔جو کہ غلطی یا سہو کتابت نہیں ہے بلکہ ایک درست لغت کا استعمال ہو سکتا ہے۔قلب حروف میں بعض قبائل مختلف کلمات میں (ہ) کو (ح) سے اور اس کے بر عکس بدل دیتے تھے۔مثلاً لغت کی کتاب المخصص میں ہے کہ بعض كَدَحَهُ کو كَدَههُ ، اور يَهْتَبش کو يَحْتَبش، الحفيف كوالهفيف، اور أَهَمَّني الأمركو أَحَمَّني الأمر، قَمَحَ البعيرُ و قَمَةَ، طَحَرہ کو طَهَرَہ، اور مَدَحَه أَو مَدَهَہ بھی پڑھتے ہیں۔مزید لکھا ہے کہ نبی کریم صلی ال کمی کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے عمار کو فرمایا: وَيْهَكَ ابن سُمَيَّة جبکہ اصل میں ويحك ہونا چاہیے تھا۔اگر یہ حدیث کہیں محفوظ ہے تو اس میں (ح) کو (0) سے بدل دیا گیا ہے اور یہ افصح اللغات میں سے ہے۔(ماخوذ از المخصص، كتابُ الأضدادِ، بَابُ مَا يَجِيءُ مقولًا بحَرفَين وَلَيسَ بدلًا) اب مذکورہ بالا قاعدہ کو ذہن میں رکھ کر حضور علیہ السلام کی کتب میں دیکھیں تو آپ نے اپنی کتب میں بعض جگہ محجّة الاهتداء کو 'ح‘ کی بجاۓ سے مهجة الاهتداء لکھا ہے۔کیا اس کو مذکورہ بالا اسلوب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا؟ اگر عرب طَحَره کو طَهَرَه، مَدَحَه کو مَدَهَه بھی پڑھ لیتے تھے اور اگر آنحضرت صلی الم نے حضرت عمار كو ويحك کی بجائے فرمایا: 34