عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 33 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 33

اس میں حضور بیت کی صفت عظیم کی بجائے عظمی لاتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ بیت اللہ سے آپ کی مراد الکعبۃ ہے جو مؤنث ہے۔,, اسی طرح وَأَمَّا الآفات الروحانيَّةُ فَيُهْلِكُ الْحِسْمَ والرّوحَ والْإِيمَانَ ،، معا۔“ (الاستفتاء) میں الآفات کو جو کہ مؤنث ہے المرض پر محمول کر کے يُهلك یعنی مذکر کا صیغہ لایا گیا ہے۔اور ” وَإِنَّ القِصَصَ لَا تَجْرِي النَّسْخُ عَلَيْهَا كَمَا أَنْتُمْ تُقِرُّوْنَ۔“ (الخطبة الإلهامية) میں النسخ مذکر ہے لیکن اس کو عملية النسخ يا قاعدة النسخ پر محمول کر کے مؤنث کا صیغہ لایا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔مذکورہ بالا اسباب اختلافِ لغاتِ عرب کو پڑھیں تو ان میں سے ایک سبب، بعض حروف کی تقدیم و تاخیر ہے۔مثلاً بعض عرب صاعقة کو صافعةٌ پڑھتے یا لکھتے ہیں۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب (حجة اللہ ) کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں : وَلَا رَيْبَ أَنَّهُمْ هُم العِلَلُ الموجِبَةُ لِفِتْنَتِهِ، وَمَنْبْتُ شُعْبَتِهِ، وَجَرْمُوثَةُ شَدْبَتِهِ۔“ اگر عربوں کی ایک لغت حروف کی تقدیم و تاخیر سے صاعقة سے صافعة بن جاتی ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے خیال کیا جا سکتا ہے کہ ایسی *337*