عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 29
پر ضرور اعتراض کرے گا اور اسے غلط کہے گا۔لیکن جس کا لغات عرب کا خداداد علم پانے کا دعویٰ ہے اس کے کلام میں ان لغات کی جھلک نظر آئے گی اور اس پر اعتراض کرنے والا اپنی جہالت کا ثبوت دے رہا ہو گا۔۶۔اسی طرح ایک وجہ ادغام ہے۔مثلاً بعض مُهتَدون کو مُهَدُّون لکھتے ہیں یعنی تاء اور دال کے ادغام کے ساتھ۔یہ بھی لغات عرب میں سے ایک لغت ہے۔ے۔ایک وجہ اعراب کا اختلاف ہے۔مثلاً بعض مَا زِيدٌ قائمًا كو مَا زيد قائممٌ لکھتے ہیں اور بعض إِنَّ هذین کو إنّ هذان لکھتے ہیں۔اور یہ بنی حارث بن کعب کی لغت ہے۔۔ایک وجہ یہ ہے کہ کسی لفظ کے آخر پر گول تاہ آئے تو اس پر وقف کرتے ہوئے بعض اسے ہاء پڑھتے ہیں اور بعض اسے تاء ہی پڑھتے ہیں مثلاً بعض هَذِهِ أُمَّة کو وقف کی صورت میں هَذِهِ أُمَّهُ پڑھتے ہیں اور بعض اسے هَذِهِ أُمَّت پڑھتے ہیں۔اور یہ دونوں الگ الگ لغات ہیں۔۹۔یہ تمام لغات عرب ان لوگوں یا قبائل کے نام سے منسوب ہیں جو انہیں استعمال کرتے تھے۔گو یہ لغات مختلف اقوام و قبائل کی تھیں اور دیگر قبائل ان کو استعمال نہیں کرتے تھے۔تاہم جب یہ لوگوں میں کثرت سے پھیل گئیں تو پھر ایک دوسرے کی جگہ پر بھی استعمال ہو نا شروع ہو گئیں۔**29*