اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 24
21 تھے۔یہ قرآن مجید جماعت احمدیہ مصر نے 1934ء میں آپ کو تحفہ دیا تھا اور حضور نے اسے سرخ رنگ کے بہت خوبصورت مخملی غلاف میں محفوظ رکھا ہوا تھا۔حضرت اقدس اور ممبران وفد اسمبلی کا قیام اسلام آباد میں رسالپور کے نہایت مخلص بزرگ قاضی محمد شفیق صاحب (متوفی 18 فروری 2000ء) کی نئی آراستہ پیراستہ کٹھی میں رہا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث مطالعہ کتب اور تحریر دونوں کے از حد شائق تھے اور دونوں سے آپ کی نفاست طبع اور شوق علم کی عکاسی ہوتی تھی۔حضور ہمیشہ ہاف فلسکیپ سائز پر یاداشتیں رقم فرماتے اور اسی سائز پر مجھے بھی حوالے بھجوانے کا ارشاد فرماتے خدا تعالیٰ مولوی بشیر احمد قادیانی صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ دے وہ جلسہ سالانہ کے ایام میں حضور کے مطلوبہ حوالوں کی خوشخط نقل کے لئے وقف ہو جاتے تھے اور میرے ساتھ دفتر شعبہ تاریخ میں ساری ساری رات لکھنے میں مصروف رہتے تھے ان کا خط نہایت عمدہ اور دلآویز تھا جسے حضور بھی بہت پسند فرماتے تھے۔حضور نے اوائل خلافت سے مختلف اہم یاداشتوں کے لئے الگ الگ کا بیاں تیار کرائی تھیں جن میں ضروری اور تازہ حوالے اکثر حضرت خلیفہ اسیح الاول کے انداز و اسلوب میں خود تحریر فرماتے یا بعض اوقات مجھے فرماتے۔حضور نے عاجز کو بھی اہم مضامین پر الگ الگ کا پیاں تیار کرنے کا ارشاد فرمایا جن کی تکمیل جناب مولانا یوسف سلیم صاحب ایم اے ( انچارج شعبہ زودنویسی ) جناب مولوی بشیر احمد صاحب قادیانی مرحوم اور جناب محمد اصغر قمر صاحب ( سابق کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حال امور عامہ ) کی رہین منت ہے۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔خدا کے فضل و کرم سے استاذی المحترم حضرت مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین ، جناب شیخ محبوب عالم صاحب خالد ناظر بیت المال اور خاکسار کو 1965 ء سے 1981 ء تک کے سالانہ جلسوں میں بعض اوقات رات کے ڈیڑھ بجے تک حضور کے قدموں میں بیٹھنے کے مبارک مواقع میسر آئے جس کے دران حضور کے عطا فرمودہ تبرکات سے متمتع ہونے کی سعادت بھی ملی ایک شب حضور نے از راہ شفقت اس کفش بردار کو نہایت محبت و پیار سے ایک روپیہ