اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 17 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 17

15 سیدنا حضرت خلیفة اسبح الثالث اب میں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثالث (ولادت 16 نومبر 1909ء۔وفات 9-8 جون 1982 ء ) سے متعلق اپنے چند ذاتی مشاہدات و احوال عرض کرتا ہوں۔خلیفہ بھی ہے اور موعود بھی مبارک بھی ہے اور محمود بھی لیوں ترانه ہے محمود کا زمانه زمانه ہے محمود کا ور عدن) اللہ جل شانہ نے اپنی از لی تقدیر کے مطابق 8 نومبر 1965 ء کوحضرت خلیفہ اسیح الثالث کو خلافت کی خلعت پہنائی یہ دوشنبہ (سوموار ) کا مبارک دن تھا اور ہجری کیلنڈر کی رو سے 13 رجب 1385 ھش کی تاریخ۔12 نومبر 1965 ، خلافت ثالثہ کے تاریخ ساز عہد کا پہلا جمعہ تھا۔اس روز حضور پُر نور نے صبح کے ابتدائی وقت میں شرف باریابی بخشا اور فرمایا کہ آج جمعہ کو تعطیل ہوتی ہے میں نے تمہیں تکلیف دی ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ پوری جماعت میں حضور نے اس کفش بردار ہی کو زیارت کی سعادت بخشی ہے۔فرمایا میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ جب میں نے وقف زندگی کا فارم پُر کر کے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ آج تم نے میرے دل کی پوشیدہ خواہش کو پورا کر دیا ہے میں چاہتا تھا کہ تم میری تحریک کے بغیر خود ہی تحریک جدید کے روحانی مجاہدوں میں شامل ہو جاؤ۔آج میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں مگر یا در کھواب تم نے اپنی زندگی وقف کر دی ہے اب مرنے سے پہلے تمہارے لئے کوئی چھٹی نہیں۔میں نے ادب سے عرض کیا کہ حضور میں بھی یہی عہد کرتا ہوں کہ ایک واقف زندگی کی حیثیت سے شب و روز خدمت دین میں مشغول رہوں گا۔سو الحمد اللہ حضور کے سترہ سالہ زمانہ خلافت میں خاکسار جمعہ اور عیدین بلکہ مشاورت کے ایام میں بھی کارروائی سے قبل اپنے دفتر میں موجود رہتا تھا اور خدا کے فضل سے حضور کے فوری ارشادات کی تعمیل کی سعادت پا تارہا۔اگر ہر بال ہو جائے سخنور تو پھر بھی شکر ہے امکان سے باہر