اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 6 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 6

5 مجھے مسلسل دو ماہ تک میو ہسپتال کے ایک بیڈ پر چت لیٹنا پڑا۔یہ میرے لئے اپنی زندگی کا پہلا نہایت کربناک تجربہ تھا مگر حضور کی دعاؤں کے طفیل ایک غیبی سکینت طاری رہی۔میرے بستر کے ساتھ ہی ایک کیمونسٹ دوست بھی داخل ہسپتال تھے۔چونکہ میں نے حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے " اسلام کا اقتصادی نظام کا روح پرور خطاب سنا ہوا تھا اس لئے اس دوست سے لیٹے لیٹے مذاکرہ سا جاری رہا۔یہاں تک کہ خدا کے فضل سے ان پر اسلامی نظام حیات کی برتری کا سکہ بیٹھ گیا۔علاوہ ازیں میرے ذہن پر بعض علمی و دینی افکار نے غلبہ پالیا اور میری درخواست پر والد صاحب روزانہ انہیں لکھنے میں مصروف ہو گئے۔اس ماحول میں ایک ماہ بعد ڈاکٹر صاحب مرحوم نے میرا آپریشن کیا۔کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا دوسرا کیس تھا جو تشویش کا پہلو بھی رکھتا تھا اس لئے میڈیکل کالج کے بہت سے طلبہ کو بھی بلا لیا گیا۔آپریشن کے بعد میری دونوں آنکھوں پر سبز پٹی باندھ دی گئی جو ایک ماہ بعد کھولی گئی۔یہ وقت میرے لئے قیامت سے کم نہیں تھا۔مگر حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کے طفیل آپریشن ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور اب جبکہ اس نازک آپریشن پر نصف صدی سے زیادہ بیت گئی ہے اور کاروان عمراستی کی منزل میں داخل ہو چکا ہے یہ تکلیف دوبارہ نہیں ہوئی۔پنجم : سیدنا حضرت مصلح موعود نے ۱۶ ارنومبر ۱۹۵۶ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ دعا القاء فرمائی ہے کہ ہم قدم قدم پر خدا تعالی کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں اور ساتھ ہی جناب الہی سے بتایا گیا کہ یہ دعا سورہ فاتحہ کا حصہ ہے۔جولوگ اپنی دعاؤں میں یہ فقرے پڑھیں گے ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔(الفضل ۲۳ نومبر ۱۹۵۶ صفحی۳) اس خطبہ کے چند ہفتے بعد حضرت مصلح موعود کی اجازت سے تحریک کشمیر کا قدیم ریکارڈ کی عکسی کا پیاں بنوانے کے لئے لاہور آنا پڑا۔میں سیدھا برصغیر کے نامورادیب حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہوں نے فوری توجہ فرمائی اور عجائب گھر کے مشفق انچارج صاحب کے ذریعہ راتوں رات دستاویزات کے روٹو گراف بنوا دیئے۔میں حضرت شیخ صاحب کے مکان واقع رام گلی میں ہی ٹھرا ہوا تھا۔ابھی رات کی سیاہی ہر طرف چھائی ہوئی تھی اور ہر