اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 30
27 سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو قرآن مجید مصری اور مینوں درنمین بہت محبوب تھیں جو حضرت صاحبزادہ صاحب باقاعدگی سے مع گرم پانی کے تھرماس کے اسمبلی میں لے جاتے تھے اور اسے اپنے لئے بہت بڑا اعزاز تصویر فرماتے تھے۔آپ کی شفقتوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کپور تھلوی ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور خاکسار کو اپنی کار پر بٹھا کے اسلام آباد لے جاتے اور پھر خود ہی ربوہ پہنچاتے تھے۔جہلم پل کے ساتھ سرائے عالمگیر میں ایک نہایت مختصر اور سادہ سا ہوٹل تھا جس کی گرم چپاتیاں اور دال آپ کو بہت مرغوب خاطر تھی۔یہ پسندیدہ چیزیں ہمیں بھی دیتے اور خود بھی مزے لے لے کر نوش فرماتے تھے۔اسمبلی ہال میں چیئر مین و پیکر اسمبلی جناب صاحبزادہ فاروق علی صاحب کے سامنے ایک لمبی میز رکھ دی گئی تھی۔جس کے درمیان حضرت خلیفہ اسیح الثالث رونق افروز ہوتے اور آپ کے دائیں حضرت شیخ محمد احد صاحب مظہر کے بالکل ساتھ پہلے نمبر پر آپ تشریف رکھتے تھے۔بائیں جانب پہلے عاجز کی پھر استاذی المحترم خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی سیٹ معین تھی۔اسمبلی کے آخری اجلاس کے بعد حضرت خلیفتہ امیج الثالث نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ آپ اور دوست محمد شاہدر بوہ پہنچیں چنانچہ حضرت میاں صاحب نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور مرکز احمدیت کی طرف روانہ ہو گئے۔سفر شب طویل تھا مگر آپ نے اسے اپنے دلچسپ لطائف و ظرائف اور علمی موتیوں سے اس شان سے منور کر دیا کہ جب ہم صبح سویرے ربوہ کی مقدس ہستی میں داخل ہو وئے تو دونوں ہی تازہ دم تھے اور تھکان کا نام ونشان تک نہ تھا۔حضور نے 23 اکتوبر 1982 ء کو مجلس علم و عرفان میں فرمایا :- مولوی دوست محمد صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے حوالوں کے بادشاہ ہیں۔ایسی جلدی ان کو حوالہ ملتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جب قومی اسمبلی میں پیش ہوئے تھے تو وہاں بعض غیر از جماعت دوستوں نے آپس میں تبصرہ کیا اور بعض احمدی دوستوں کو بتایا کہ ہمیں تو کوئی سمجھ نہیں