اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 18
16 اس سلسلہ میں دو ایک واقعات دلچپسی سے خالی نہ ہوں گے۔خلافت ثالثہ کی پہلی مشاورت کے دوسرے دن کا پہلا اجلاس شروع ہونے میں بہت تھوڑا وقت باقی تھا کہ حضور اقدس کا ارشاد موصول ہوا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ اشاعت دین کے لئے نئی ایجادات اور جدید طریقوں کا استعمال ضروری ہے۔یہ حوالہ فوری طور پر درکار ہے۔تصرف انہی ملاحظہ ہو میں نے اس حکم کی تعمیل میں آئینہ کمالات اسلام اٹھائی اور اپنے اندازہ کے مطابق اسے جس مقام پر کھولا اسی میں مسیح الزمان کا یہ فرمان موجود تھا چنانچہ چند منٹوں کے بعد خاکسار دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں پہنچا حضور انور سیڑھیوں میں کھڑے انتظار فرما رہے تھے۔حضور انور نے حوالہ ملاحظہ فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ اصل کتاب ساتھ لے چلو اور میری میز پر رکھ دینا چنانچہ خاکسار نے ایسا ہی کیا اور حضور نے اس کتاب کے حوالہ کو پڑھا اور فرمایا جو لوگ " فضل عمر فاؤنڈیشن کے نظام عمل میں متامل ہیں انہیں حکم عدل کے اس فیصلہ کو بغور سن لینا چاہئے۔ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر جبکہ میں نے دو ہفتہ کے لئے اپنا بستر رات کو اپنے معمول کے مطابق بچھا رکھا تھا اور دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے فون کے لئے منتظر بیٹھا تھا کہ یکا یک شاعر احمدیت جناب ثاقب صاحب زیروی مدیر لاہور تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ میں ابھی حضور کی زیارت کر کے آرہا ہوں حضور نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو فرمایا ہے کہ تمہیں فون کریں کہ فلاں حوالہ اولین فرصت میں بھجوادو۔میں نے عرض کیا کہ وہ نصف شب میں کہاں ہوں گے؟ حضور نے فرمایا کہ اپنے دفتر ( شعبہ تاریخ ) میں۔چنانچہ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ واقعی دفتر میں موجود ہیں۔خاکسار نے اوائل میں ایک تحقیقی نوٹ لکھا کہ یہ قدرت خداوندی کا کرشمہ ہے کہ شمسی کیلنڈر کے مطابق حضرت عمرؓ کا وصال اور حضرت خلیفہ ثالث حضرت عثمان کا انتخاب خلافت بھی نومبر ہی کے آغاز میں ہوا۔آخرین میں بھی یہی تاریخ دوہرائی جارہی ہے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہ نوٹ فور " الفضل کو بھجواد والحمد للہ جناب مدیر صاحب الفضل مولانا مسعود احمد خان صاحب دہلوی نے اولین فرصت میں اسے زیب اشاعت کر دیا جو خلصین کے ایمان کی تازگی کا موجب بنا۔اسی طرح خاکسار نے 7 ستمبر کے فیصلہ اسمبلی پر ایک مضمون لکھا جس میں مستند تاریخ