اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 9
8 شیخ محمد اسلم صاحب ( مرحوم) تھے جو بہت مستعد ومخلص اور فعال بزرگ تھے۔انہوں نے اپنے مکان سے متصل میدان میں جوابی جلسہ کے انعقاد کے لئے دریاں بچھا دیں اور لاؤڈ سپیکر نصب کرا دیا۔ابھی جماعت کے جلسہ کی کارروائی کا تلاوت قرآن مجید سے آغاز ہی ہوا تھا کہ احراری علماء کا ہجوم اند آیا حتی کہ اس نے پنڈال کو گھیر لیا۔احرار دھاوا بولنے سے پہلے مقامی پولیس افسر سے ساز باز کر چکے تھے جس نے آتے ہی نہایت تند و تیز الفاظ میں پریذیڈنٹ صاحب کی جواب طلبی کی کہ سرکاری حکم کے بغیر کیوں جلسہ کیا جارہا ہے۔محترم پریذیڈنٹ صاحب جواب دے سکتے تھے کہ احراریوں نے جلسہ کی منظوری کب لی ہے مگر انہوں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جھٹ اجازت نامہ پیش کر دیا جس کے بعد سب شرپسند اور تماشہ بین میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اور جماعت احمدیہ کا جلسہ عام کئی گھنٹے تک نہایت کامیابی سے جاری رہا اور عدوان محمد اور منکرین ختم نبوت کی ایسی قلعی کھلی کہ گویا دن چڑھ گیا۔دو ایک روز بعد میں واپس مرکز احمدیت میں آگیا۔گھر پہنچا تو یہ دیکھ کر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا کہ حضرت مصلح موعود کی روحانی توجہ اور دعا کے طفیل میرے اہل خانہ پوری طرح شفایاب ہیں۔ہفتم: اوائل ۱۹۴۷ء کی بات ہے کہ خاکسار نے غیر مبائعین کی اشتعال انگیز تحریروں کو دیکھ کر ایک مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا۔میں ساری رات قادیان کی مرکزی لائبریری میں (جو ان دنوں بیت مبارک کے نیچے ایک کمرہ میں تھی ) اخبار ”پیغام صلح کا مطالعہ کر کے نوٹ لیتا رہا۔میں نے ثابت کیا کرہ اہل پیغام اگر چہ سیح موعود کی کشتی میں بیٹھے ہیں مگر حضرت مصلح موعود کی مخالفت کر کے لیکھرام کا پر چم لہرا ر ہے ہیں اور ان کی زبان اور لب ولہجہ بھی وہی ہے جو اس شاتم رسول نے کلیات آریہ مسافر میں اختیار کیا تھا۔یہ مضمون مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب نائب مدیر فرقان نے مارچ ۱۹۴۷ء کے ایشوع میں شائع کر دیا جس کے بعد مجھے خوشخبری دی کہ حضور نے اسے بہت پسند فرمایا ہے۔۱۹۵۶ء کے فتنہ منافقین کے دوران اس کا پھر ترجمہ واضافہ کیا تو الفضل میں شائع کیا گیا۔اس پر حضرت مصلح موعود نے بیت مبارک کی مجلس عرفان میں اظہار خوشنودی فرمایا۔اس بابرکت مجلس میں استاذی