اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 8
7 القائی دعا کی برکت سے رونما ہوا۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے ششم: حضرت مسیح موعود کے لخت جگر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب عرصہ تک ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد کے منصب پر فائز رہے۔ایک بار آپ نے حضرت مصلح موعود سے اجازت حاصل کر کے مجھے ہدایت فرمائی کی دنیا پور (ضلع ملتان ) میں جماعت کے خلاف اشتعال پھیلایا جارہا ہے۔جس کے ازالہ کے لئے فوراً بذریعہ چناب ایکسپریس ملتان پہنچو اور چوہدری عبدالرحمن صاحب امیر ملتان کو لے کر دنیا پور پہنچو۔مجھے یہ تحریری ارشاد چناب ایکسپریس آنے کے صرف چند گھنٹے قبل ملا جبکہ میں مسجد مبارک سے متصل خلافت لائبریری کے ایک کمرہ میں تصنیفی کام میں مصروف تھا۔میری رہائش ان دنوں محلہ دار النصر شرقی کے آخر میں تھی۔میں نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھجوا دیا کہ میں دفتر سے بذریعہ ٹرین ملتان جارہا ہوں۔ساتھ ہی اپنے مقدس آقا کے حضور سفر کی کامیابی کے لئے درخواست دعا لکھی۔نیز عرض کیا کہ میری بیگم (سلیمہ اختر ) سخت بیمار ہیں از راه شفقت و ذره نوازی ان کو بھی خصوصی دعا میں یاد رکھا جائے۔احسان ہوگا۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں مختصری عرضداشت بھیجوانے کے بعد میں ملتان کے لئے روانہ ہو گیا۔وہاں پہنچ کر اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ مجسٹریٹ صاحب سے جلسہ دنیا پور کے لئے تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔جناب عبد الحفیظ صاحب ایڈووکیٹ ملتان ( حال مقیم کینیڈا ) مجھے ساتھ لے کر فاضل جج کی خدمت میں پہنچے اور درخواست پیش کی۔انہوں نے فرمایا ضلع بھر میں جلسوں کی مکمل آزادی ہے۔کسی جگہ بھی دفعہ ۱۴۴ نافذ نہیں۔میں نے عرض کیا بلا شبہ یہی حقیقت ہے۔بایں ہمہ آپ کا احسان عظیم ہو گا اگر آپ ہماری عرضداشت کو شرف قبولیت بخشیں۔یہ سنتے ہی انہوں نے اجازت نامہ دے دیا۔دنیا پور میں کئی روز سے بد زبان مخالفین احمد بیت لاؤڈ سپیکر پر گندا چھال رہے تھے اور ان کی مفتریات نے پورے قصبہ کی فضا کو مکدر کر دیا تھا۔ان دنوں جماعت احمد یہ دنیا پور کے پریذیڈنٹ