اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 7
6 طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا کہ میں طلوع فجر سے بہت پہلے کراؤن بس کے اڈے تک پہنچ گیا۔معلوم ہوا کہ ابھی پہلی سروس کے چلنے میں خاصی دیر ہے جس پر میں اپنے دو بیگ سنبھالے ہوئے ٹانگہ میں بیٹھ کر یونائیٹڈ بس کے اڈے پر پہنچا۔میں نے اسے کرایہ دیا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گیا اور ساتھ ہی یہ معلوم ہونے پر میرے اوسان خطا ہو گئے اور زمین پاؤں سے نکل گئی کہ وہ بیگ جس میں اصل کا غذات اور اس کے فوٹو کاپی رکھے تھے نانگہ میں ہی رہ گئے ہیں جس پر میں نے واپس کراؤن کے اڈا کی طرف سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا۔عین اس وقت جبکہ مجھ پر ایک قیامت ٹوٹ چکی تھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے میری توجہ کا رخ حضرت مصلح موعود کے بیان فرمودہ القائی نسخہ دعا کی طرف پھیر دیا۔میں لاہور سڑکوں پر ایک اڈہ سے دوسرے اڈہ کی طرف بھاگتا چلا جار ہا تھا مگر ساتھ ہی درد بھرے دل سے دعائیہ کلمات بھی پڑھتا جاتا تھا۔سراسیمگی کے اس عالم میں دن چڑھ گیا مجھے یکا یک غیبی تحریک کی ہوئی کہ موچی دروازہ میں ٹانگوں کا وسیع اڈہ ہے، مجھے فی الفور وہاں جانا چاہیے۔میں تیزی سے وہاں پہنچا۔واقعی اس جگہ ٹانگے بکثرت موجود تھے اور آنے جانے والوں کا تو تانتا بندھا ہوا تھا۔میں نے ہر ایک کو چوان سے یہی پوچھنا شروع کیا کہ میرا بیگ آپ کے ٹانگہ میں رہ گیا ہے؟ سبھی نے نفی میں جواب دیا اور اگر چہ بعض نے اظہار ہمدردی بھی کیا لیکن اکثر نے کھلا مذاق اڑایا کہ ہم تو ابھی گھر سے آرہے ہیں ، ہم نے تو کوئی سواری بٹھائی ہی نہیں۔ایک کو یہ پھبتی بھی سوجھی کہ یہ عجیب شخص ہے جو ہر ٹانگے میں بیٹھنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔میں اس پریشان خیالی میں خاصی دیر تک سرگردان رہا کہ اچانک ایک ٹانگہ تیزی سے میرے سامنے آکھڑا ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا مالک میرا بیگ تھامے ہوئے نیچے اتر رہا ہے اور ساتھ ہی مجھے مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ میں صبح سے تمہاری تلاش میں ہوں۔میں نے لاہور کا کونہ کو نہ چھان مارا ہے۔یہ لو اپنی امانت !! میں اس شخص کی دیانتداری پر حیران رہ گیا۔حق یہ ہے کہ لا ہور جیسے وسیع و عریض شہر میں کسی ٹانگہ بان سے گمشدہ متاع کا دوبارہ مل جانا یقینا ایک معجزہ تھا جو حضور انور کی