اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 39
36 چونکہ لائبریری میں کام کرتے ہیں اس سے ان کو سہولت ہو جاتی ہے۔یہاں کام کرنے والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کہاں کتاب ہوگی اور اس کے کس صفحے پر متعلقہ حوالہ موجود ہو گا۔اللہ تعالٰی ان کو بھی جزائے خیر دے۔“ اب میں ایک ایسا نا قابل فراموش واقعہ عرض کرنا چاہتا ہوں جو میرے روح قلب بلکہ جسم کے ذرہ ذرہ پر ہمیشہ کے لئے نقش ہے اور جس کا تصور ہی آنکھوں کو اشکبار کر دیتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ 17 جنوری 2000ء کو جبکہ میں سائیکل پر سوار بیت مبارک ربوہ میں نماز پڑھانے کیلئے جارہا تھا ایک سائیکلسٹ کی فکر سے میری بائیں ٹانگ کا تشویشناک حد تک فریکچر ہوگیا۔(روز نامہ جنگ لاہور 19 جنوری 2000ء) محترم مخدومی ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب نے فوری طور پر جسم کے متاثرہ حصہ پر کمال مہارت سے مرہم پٹی کی اور فیصلہ ہوا کہ آپریشن فیصل آباد کے مشہور آرتھو پیڈک احمدی سر جن محترم ڈاکٹر شمس الحق طیب صاحب سے کرایا جائے لیکن اگلے روز صبح کے وقت یہ دردناک اطلاع پہنچی کہ آپ بوقت شب راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے ہیں۔(الفضل 20 جنوری 2000 بسلحہ 1) بنا کردند خوش رسم بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را اب مشکل یہ آن پڑی کہ اس نازک آپریشن کے لئے فضل عمر ہسپتال میں پورٹیبیل ایکسرے مشین ہی موجود نہیں تھی۔ہمارے موجودہ عالی مقام امام سید نا خلیفہ اسیح الخامس حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے جو اس وقت ناظر اعلیٰ و امیر مقامی تھے حکم دیا کہ یہ مشین فوراً منگوائی جائے اور یہیں آپریشن کی جائے چنانچہ سکی فی الفورقی کی گئی اور جناب صاحبزادہ مرزا بشر احمد نے ہی آپریشن کیا اسی دوران عزیزم ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی خدمت عالیہ میں متعدد بار بذریعہ ٹیکس دعائے خاص کی درخواست کی۔حضور انور نے نہ صرف دعا کی بلکہ اپنی مبارک اچکن بطور تبرک عطا فرمائی۔نیز فرمایا اللہ فضل فرمائے ، بہت فکر والی بات ہے مولوی صاحب تو بہت قیمتی وجود میں اللہ تعالیٰ جلد شفائے کاملہ عطا فرمائے، نتیجہ یہ ہوا کہ بفضل اللہ