اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 38 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 38

35 اور سارے اخراجات مخدومی چوہدری محمد شاہنواز خان صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ (آف شاہنواز لمٹیڈ ) نے برداشت کئے ازاں بعد آپ ہی نے 1989ء کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کا انتظام فرمایا۔فجزاه الله تعالى رب اجعل مثوه في الجنة الفردوس حضور اقدس نے از راہ نوازش خاکسار کے لخت جگر ڈاکٹر سلطان احمد صاحب مبشر کا 24 ستمبر 1991ء کو اسلام آبا دلندن میں خطبہ نکاح پڑھا جس میں فرمایا:- عزیزم ڈاکٹر سلطان احمد مبشر کے والد مکرم محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد سلسلے میں کسی تعارف کے محتاج نہیں بہت ہی عظیم الشان خدمت کی توفیق پائی ہے اور بہت گہرا علم رکھتے ہیں تاریخ احمدیت پر خدا کے فضل سے سند بن چکے ہیں اس کے علاوہ بھی ہمیشہ بڑی انکساری کے ساتھ سلسلہ کی مختلف خدمات پر مامور ہے اور ان خدمات کا حق ادا کر دیا۔ان کا بچہ سلطان احمد بھی (جیسا کہ اللہ نے چاہا) انہی کے رنگ میں رنگین ہے۔(الفضل 14 دسمبر 1991 صفحہ 7) حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی ہجرت انگلستان سے تحریک احمدیت کی فتوحات کا ایک انقلاب آفریں دور شروع ہوا اور خصوصاً آپ کی برکت سے ایم ٹی اے جیسا آسمانی ادارہ عطا ہوا جس نے دنیا بھر میں آنحضرت ﷺ ، قرآن اور اسلام کی دھومیں مچادیں۔حضور انور نے از راہ ذرہ نوازی ہجرت انگلستان کے بعد اس قلمی ولسانی جہاد میں ہر قدم پر مجھ نا چیز اور نالائق چاکر کو بھی شامل رکھا اس طرح احقر کو بے شمار حوالہ جات اور ضروری معلومات بذریعہ فیکس ارسال کرنے کی توفیق ملتی رہی۔اس بے پناہ لطف و کرم کا شکریہ میں لفظوں میں ادا نہیں کر سکتا اور نہ میری اولادیں ہی قیامت تک ادا کر سکیں گی۔15 اپریل 1994ء کے ملاقات پروگرام میں ( جو ایم ٹی اے پر نشر ہوا) حضرت خلیفہ مسیح الرابع نے فرمایا:- " جب کوئی حوالہ ہمیں یہاں سے نہ ملے تو پھر حوالوں کے بادشاہ مولوی دوست محمد صاحب ہیں، ان کو فیکس بھیجتے ہیں اور وہ ضرور نکال لیتے ہیں، کہیں سے نکالیں ، ایسا خدا کے فضل سے ان کو عبور ہے مطالعہ بھی وسیع ہے اور پھر یا در ہتا ہے کہ کتاب کہاں ہے۔