اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 11 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 11

10 فرشتوں کی آسمانی افواج کے ذریعہ فولادی ہاتھوں میں جکڑ کر اس کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر کر رکھ دیں اور سیدنا امیر المومنین حضرت عمر کا جلالی دور ایک بار پھر پلٹ آیا۔بعض حسین یادیں -:1 سه آمد تھی ان کی یا کہ خدا کا نزول تھا صدیوں کا کام تھوڑے سے عرصہ میں کر گئے ۱۹۴۶ء میں خاکسار نے جامعہ احمدیہ قادیان سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا جس کے بعد حضور نے وکیل التبشیر حضرت خانصاحب ذوالفقار علی صاحب کو ارشاد فرمایا کہ اسے لنڈن مشن کے سیکرٹری کے طور پر بھیجوانے کا انتظام کیا جائے۔یہ معاملہ ابھی ابتدائی مرحلہ میں تھا کہ ہمارے پرنسپل حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے عرض کیا کہ اس طالبعلم کا رجحان علم کلام کی طرف ہے اس لئے ہندوستان کے لئے زیادہ موزوں ہو سکتا ہے۔چنانچہ حضور نے سلسلہ کے مفاد کو مقدم کرتے ہوئے اس مشورہ کو شرف قبولیت بخشا اور میری بجائے مولوی مقبول احمد صاحب معتبر لندن بھجوائے گئے۔-:2 حضرت اقدس نے ہم طلبہ کومحاذ کشمیر پر بھجوانے سے قبل رتن باغ لاہور میں شرف باریابی بخشا جس میں علاوہ اور امور کے یہ بھی بتایا کہ میں نے انگریزی زبان اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ سے سیکھی ہے۔-:3 قیام ربوہ کے ابتدائی دور کا واقعہ ہے کہ حضرت مصلح موعود نے خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب فرمایا جس کے دوران خدام سے پوچھا کہ اصل فرائض کے علاوہ کیا کسی نے کوئی اور کام بھی بسر اوقات کے لئے سیکھا ہے۔جس پر میں کھڑا ہوا اور نہایت ادب سے عرض کی کہ حضور ! خاکسار نے قادیان میں جلد سازی اپنے پچا میاں عبد العظیم صاحب ( درویش ) سے سیکھی تھی۔جو بوقت ضرورت اب بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔حضور اس جواب سے خوب محظوظ ہوئے۔-:4 افتتاح ربوہ (۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء) کے کچھ عرصہ بعد خاکسار نے ازالہ اوہام کے ایک کشف