اقلیم خلافت کے تاجدار

by Other Authors

Page 10 of 48

اقلیم خلافت کے تاجدار — Page 10

9 اکترم خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مدیر ” الفرقان“ بھی موجود تھے۔آپ نے خاتمہ مجلس کے بعد یہ خوشخبری سنائی اور میرا دل باغ باغ کر دیا۔آہ! میرے محسن بزرگ بہشتی مقبرہ ربوہ میں ابدی نیند سورہے ہیں:۔محمود کے سپاہی احمد کے خاص پیارے اب رہ گئے ہیں ایسے جیسے سحر کے تارے المختصر حضرت مصلح موعود کے احسانات بے شمار ہیں اور ان کا حقیقی شکر یہ حد امکان سے باہر ہے۔فداہ روحی و جنانی۔وسط ۱۹۵۶ء میں انکار خلافت کا اندرونی فتنہ اٹھا تو حضرت مصلح موعود نے اس ناچیز خادم کو اس کا ریکارڈ رکھنے اور جلسہ سالانہ پر اس کا خلاصہ پیش کرنے کا ارشاد فرمایا۔انہی دنوں کا واقعہ ہے که سکندر آباد (دکن) سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الاسدی مؤسس الحکم کا ایک مفصل مکتوب پہنچا کہ خلافت ثانیہ کے اوائل میں میاں عبد الوہاب صاحب عمر (متوفی ۲۷ جون ۱۹۷۹ء ) نے مولوی محمد اسماعیل غزنوی سے گٹھ جوڑ کر کے حضور کے خلاف ایک ناپاک اور شرمناک سازش کی جس کی حیران کن تفصیل بھی انہوں نے قلمبند کی تھی۔حضور نے چٹھی مہری توجہ سے سنی اور مجھے ارشاد فرمایا کہ انہیں فورا لکھو کہ یہ بات اس زمانہ میں مجھے کیوں نہیں پہنچائی۔حضرت عرفانی صاحب کا جواب ملا کہ یہ سازش مرزا اگل محمد صاحب کی حویلی میں کی گئی اور خلیفہ صلاح الدین صاحب کے ذریعہ اس کا علم ہوا جس کے بعد میں نے اولین فرصت میں چشم دید شہادت حضور کی خدمت میں بھجوا دی تھی۔مگر حضور نے انہیں معاف فرما کر سارا معاملہ داخل دفتر کر دیا اور پھر اپنے لوح قلب سے اصل واقعہ کو اس طرح صاف کر دیا کہ آج حضور کے مبارک حافظہ میں اس کا خفیف سا نقش بھی موجود نہیں۔الفاظ میرے ہیں مگر مفہوم قریبا قریباً یہی تھا۔بیانیام جماعتی تاریخ میں بہت نازک تھے۔کیونکہ اس خوفناک فتنہ کی پشت پر ملک کی تمام دشمن احمدیت طاقتیں یکجان ہو کر آنا فانا مجتمع ہو گئیں لیکن حضور نے بڑھاپے اور بیماری کے باوجود