عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 37
نہ با وجود ان پڑھ ہونے کے آپ کے مبارک ہونٹوں پر کوثر و تسنیم کے چشمے جاری ہوئے اس کے برعکس سورۃ کہف کے میں حضرت موسی علیہ السلام کے شاگر دینے اور بخاری میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قبیلہ بنو جرہ ہم سے عربی سیکھنے کا واضح ذکر ملتا ہے مشرق وسطی کے مشہور مؤرخ محمود عقاد نے حیات مسیح صیدہ پر لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے اساتذہ فریسی تھے اور کویت کے محقق السید نور الدین قمر نے " قصہ اور لیس صدا میں اور مصری عالم عبد الوہاب تجارت قصص الانبیاء ، ص ۲۵ میں حضرت اور لیس کے یونانی استاد کا نام تک بتلا دیا ہے یعنی " القوناز یمون " سلام -۲- فرعون مصر کا قانون اس درجہ ظالمانہ اور آمرانہ تھا کہ حضرت یوسف جیسے اولوالعزم پیغمبر اپنے سگے بھائی بن یامین کو بھی اپنے پاس نہ رکھ سکتے تھے۔بایں ہمہ آپ نے قانون وقت کا احترام فرمایا جس پر سورۃ یوسف شاہد عادل ہے۔اسی طرح حضرت عیسی رومی حکومت کے ماتحت رہے اور کی بھی اس غیر ملکی حکومت سے ٹکر نہ کی بلکہ ٹیکس دینے کے سوال پر فرمایا " جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو تعداد کا ہے خدا کو ادا کروانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اسوہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے سفر طائف سے واپسی پر مکہ کے ایک کا فریمیں مطعم بن عدی کی پناہ طلب کی اور سکتے کے قبائلی قانون کی پابندی کرتے ہوئے اس کا فر کی اجازت سے مکہ میں قدم رکھا اور اس مقدس شہر کی دوبارہ شہریت اختیار کی ہے ! ا لوقا باب ۲۰ آیت ۲۵ سے سیرت النبی ( علامہ شبلی نعمانی، جلد ص ۲۵۶