عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 52
فرش سے جا کر لیا دم زن پر با مصطفے کی سیر روحانی تو دیکھ اللهُمَّ صَل عَلى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى اللِ مُحَمَّدٍ وَبَارِك وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد چومتی مثال : کربلا " اورجین کے مقدس الفاظ استعارہ کی زبان میں صدیوں سے مظلومیت اور مظلوم کی علامت (SYMBOL) کے طور پر مستعمل ہیں چنانچہ عہد اکبری کے بزرگ شاعر حضرت علامہ محمد نوعی الجنوشانی الخراسانی حمد الله منتوفی ۱۰ اشمر) کی ایک غزل کا مطلع ہے کہ کر بلائے عشقم و لب تشنہ مسترا یائے میں } صد حسین گشته در هر گوشه صحرائے من کے یعنی نیکی کربلائے عشق ہوں اور سترتا یا کب نشتہ ہوں اور میرے صحرا کے ہر گوشہ میں تو حسین فدا شدہ ہیں۔نیز مولانا محمدعلی جوہر کا مشہور شعر ہے قتل حسیں اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کہ بلا کے بعد زمانہ حاضر کے ایک شاعر ستیہ معصوم حسین رضوی فرماتے ہیں ہے ہر اک زمین ارض کربلا ہے۔ہر ایک دان دان ہے دس محرم نہ جی سکے گا یہ خون ناحق جسے یہ دنیا چھیار ہی ہے ہے ن المنجد في الاعلام “ علامہ فارسی کے ادرالکلام شاعر تھے چنانچہ مورخ بغدادی اسماعیل بانشاتے " الصياح المكنون في الذيل على كشف الملتون " میں لکھا ہے کہ علامہ کا دیوان چھ ہزار ابیات پر مشتمل ہے 4 جا Ethe منے قلمی نسخه دیوان نوعی در انڈیا آفس لائبریری لنڈی ۱۴۰۵ REF : TOL ETLE) س رسالہ "فجر" جولائی ۱۹۸۳ء ص (اردو تر جمان سفارتخانه ایران )