عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 87
AL ہے کہ اسطرح کی دو بیاں تھیں جن پر تہمت زناد کی لگائی مگر اتنا فرق ہوا کہ ایک بی بی پر فقط اتہام ہوا دوسری بی بی ایک بچہ بھی تین لائیں وہ نصرانی مبہوت ہو کر رہ گیا حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ " ایک دفعہ ایک پادری صاحب شاہ صاحب کی خدمت میں آئے اور سوال کیا کہ کیا آپ کے پیغمبر حبیب اللہ ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔وہ کہنے لگا تو پھر انہوں نے بوقت قتل امام حسین فریاد نہ کی ، یا یہ فریاد سنی نہ گئی ہے شاہ صاحب نے کہا کہ نبی صاحب نے فریاد تو کی لیکن انہیں جواب آیا کہ تمہارے نواسے کو قوم نے ظلم سے شہید کیا ہے لیکن ہمیں اس وقت اپنے بیٹے عیسی کا صلیب پر چڑھنا یاد آرہا ہے ، الزامی جواب کا یہیں حریہ ہے جو آنحضرت کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انیسویں صدی کے بد زبان پادریوں کے آنحضور پر شرمناک حملوں کے جواب میں استعمال کر کے اُن کو دم بخود کر دیا مگر معترضیلی اصحاب اسکو توہین عیسی " کا نام دیتے ہیں حالانکہ حضور کی کتابوں میں بار بار یہ وضاحت موجود ہے کہ : ہماری قلم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت۔۔۔جو کچھ نکلا ہے وہ التزامی جواب کے رنگ میں ہے (چشمہ مسیحی حاشیہ نج) -۲ حضرت سلطان العارفین حضرت سلطان باہوں میں اللہ العزیز انتی و کتاب نورالمعلمی کے دسویں باب میں فقر کی اسفروسی منزل کے انوار در یافت " نے رود کوثر از شیخ محمد اکرام ایم اے 0-0 ناشر فیروز سنز لاہور