عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 81 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 81

احمدیت کو انگریزی ایجنٹ قرار دینے والے ایک ممتاز لیڈر نے جلسہ کی مرزائیت کے مقابلہ کیلئے بہت لوگ سالكوت ۱۹۳۵ ء میں یہ پتلون اُٹھے لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ یہ میرے ہا سمنقوں سے تباہ ہو » یہ دعاوی بے جا نہ تھے بلکہ ایمرسن کی حکومت انگریز اور کانگریں دونوں اسکی پشت پناہ تھیں۔اس پیشگوئی کے چار سال بعد 9 ۲۳ ء میں انکے ایک دوسرے ساتھی نے پشاور کا نفرنس میں اعلان فرمایا کہ : ہم دس برس کے اندر اندر اس فتنہ کو ختم کر سکے سے مگر عملاً ہوا یوں کہ ٹھیک دسویں سال خدا تعالیٰ نے جماعت رموج جیسے عالمی مرکز کی بنیاد رکھنے کے بعد اسمان سرب جلسہ کے انعقاد کی توفیق عطا فرمائی اور پھر اس کی ترقی کا ایک انقلابی اور اعجازی دور شروع ہوا کہ ایک عالم حیرت زدہ رہ گیا چنا : فیصل آباد کے اخبار المنیر نے مارا گست ۱۹۵۵ء مت میں لکھا " قادیانی جماعت ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم بڑھتی چلی گئی اور آج تک مخالفت کے بقتے طوفان اسکے خلاف اُٹھے انکی لہریں تو آہستہ آہستہ و متی ابھرتی رہیں لیکن یہ پودا پھیلتا چلا گیا ، پھر ۲۳ فروری ۱۹۵۶ء کے پرچہ میں اعتراف کیا کہ " ہمارے واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلا حیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی کے سوانح عطاء اللہ شاہ بخاری صت الا خان کا ملی مطبوعہ ۱۹۴۰عد سے خطبات احرار صد ۳ جلد اول مرتبہ شورش کا شمیری مایه ۱۹۴۴ء (ناشر مکتبہ احرار لا ہور)