عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 80
نہیں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے والے سور صادقوں کی یہی نشانی ہے کہ انجام انہیں کا ہوتا ہے خدا اپنی سے تجلیات کے ساتھ ان کے دلوں پر نزول کرتا ہے۔لیں کیونکہ وہ عمارت منہدم ہو سکے جس میں وہ حقیقی بادشاہ فروکش ہے، ہے سم : " لیکن جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اگر میکن پیا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرے سے بھی چغیر نہ ہو جاؤں اور ہر ایک طرف۔ایڈا اور گالی اور لعنت دیکھوں۔تب بھی میں آخر فتحیاب ہوں گا۔مجھے کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے۔میں ہر گز ضائع نہیں ہوسکتا دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لا حاصل نہیں اے نادانوں اور اندھو مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہے ہو جاؤں گا۔کس پیچھے دونادار کو خدا نے ذلت کیسا تھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کریگا یقینا یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونیوالی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ پہنچے ہیں۔میں کسی کی پر واہ نہیں رکھتا۔یکس اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں کیا خدا مجھے چھوڑ دیگا کبھی نہیں چھوڑے گا کیا وہ مجھے ضائع کر دیگا کبھی نہیں ضائع کریگا و شین ذلیل ہوں گے اور حامد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دیگا ہے 薛 ن ضمیمہ تحفہ گولڑویہ محنت اربعین ۳ م فجہ سے انوار الاسلام صدا ۱۷