عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 72
پکڑتے اور بدلنے پہلے جاتے ہیں ہیں اس سلسلہ میں منتضاد اعتراضات کی صرف تین مثالوں پر اکتفا کروں گا۔پہلی مثال - حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ ابتدا ہی سے تنہائی کو پسند فرماتے تھے اور اپنی درویشانہ طبیعت اور عجز و انکسار کے باعث کبھی ایک لحظہ کیلئے منہاں چاہتے تھے کہ دربار شہرت کی کرسی پر بیٹ میں فرمایا کرتے تھے اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت و جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیا۔کروں کا مسجد میں بیٹھ کردعائیں کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت میں متہک رہتا آپ کا سب کام م تھا حضرت مرزا سلطان احمد صاحبہ کی روایت ہے کہ آپ نے کم از کم دس ہزار مرتبہ قرآن شریف پڑھا ہوگا اُس زمانہ کا نقشہ آپ نے ان الفاظ میں کھینچا ہے " المسجد مکانی والصّالحون اخواني وذكر الله مالی و خلق الله عیالی او امی ہی سے مسجد یہ امکان، صالحین میرے بھائی یاد الہی میری دولت اور مخلوق خدا میرا خاندان ہے انہیں ابتدائی ایام میں آپ کو اپنے والد محترم کے حکم پر بامر مجبوری سیالکوٹ کچہری میں ملازم رہنا پڑا مگر قادیان میں واپسی کے ہیں۔جب انہیں دوبارہ اپنے والد کی طرف سے یہ پیغام ملا کہ وہاں بعض انگریز افسروں سے کہلا کر ملازمت کا انتظام کرا سکتے ہیں تو اپنے جواب دیا " جو افسروں کے افسر اور مالک الملک الحکم الحا میں کا میایم ن i ملفوظات جلد و هم حدیث سے سیرت میں موجود جاد هر ۱۳۸۴ از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی ام یعقوب علی