عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 63
کے نزدیک بہت بڑا ہے اسی طرح اللہ تعالی متکبر انسان کے پورے دل پر مہر کر دیتا ہے۔دوسرے دعوی کا ثبوت دوسرے دعوی کا ثبوت سورۃ النساء کی آیت نمبر ، ہے جس میں اللہ تعالٰی نے یہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ آئندہ نبوت ، صدیقیت، شہادت اور صالحیت کے الغامات کی برکات کے دروازے آنحضرت کی برکت اور تاثیر قدسی سے امت محمدیہ کیلئے کھلے ہیں اور باقی تمام نبیوں کا فیض ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے پینا نچہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ومَن يطع الله وَالرَّسُول فاولئِكَ مَعَ الَّذِينَ انْعَم الله عَلَيْهِمْ مِنَ النَبِيِّينَ وَ الصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسْنَ أو ليكَ رَفِيقًاه أُولئِكَ پانچویں صدی ہجری کے امام لغت قرآن حضرت امام راغب اصفهانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس آیت کے قطعی معنی یہ ہیں کہ جو لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گئے اللہ تعالیٰ انکو درجہ اور ثواب کے اعتبار سے نبیوں صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین میں شامل کر دے گا یعنی آنحضرت کی اطاعت سے نہیں بننے والے کو پہلے نبی کے ساتھ ' صدیق بننے والے کو پہلے صدیق کے ساتھ ، شہید بننے والے کو پہلے شہید کیساتھ اور صالح بننے والے کو پہلے صالح سے ملا دیگا اور یہ لوگ بہت ہی اچھے رفیق ہیں یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بہت جاننے والا ہے۔ل البحر المحيط " جلد ۳ ص ۲۸ مؤلقہ حضرت ابن حیان 2