عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 61 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 61

41 اسی طرح ایک اور بغیر از جماعت عالم دین شہفت روزہ " صدق جدید" لکھنود ۵- نومبر ۱۹۶۵ء) میں رقم فرمایا :- ) قادیانیوں اور غیر قادیانیوں کا اختلاف اصولی نہیں فروغی ہے۔(۲) اگر مولوی صاحبان کے نزدیک حضرت نبی اللہ مسیح موعود کی آمد کے عقیدہ سے ختم نبوت کا انکار لازم نہیں آتا تو قادیانی بھی اپنے مسیح موعود کو مان کو ختم نبوت کے منکر قرار نہیں دیئے جا سکتے اگر قادیانی اس لئے ختم توت سے منکر ہیں کہ انہوں نے میسج موعود کو نبی قرار دیا ہے تو پھر مولوی صاحبان کو بھی ختم نبوت کا منکر قرار دینا پڑیگا اور پھر تکفیر کی توپ بھی سب پر ہیں دائی جائیگی " " دونوں ہی مسیح موعود کی نبوت کے قائل ہیں، دونوں ہی کا عقیدہ ہے کہ خاتم المرسلین کے بعد مسیح موعود نبی ہو کر آئیں گے۔اب یا تو دونوں ہی ختم نبوت کے منکر ہیں یا دونوں ہی اس الزام سے بری ہیں مرکزی نقطه مسیح موعود کی نبوت ہے اور اس پر دونوں ہی کا اتفاق ہے، اپنے بلاست در نتج بالکل صحیح اور نہایت درجہ حقیقت افروز ہے۔لیکن اگر موقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اسکی حیثیت کبھی محجوبانہ ہے۔عارفانہ پہلو اس کا ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ آج دنیا کے پردہ میں مقام خاتم النبیین کی معرفت کبھی جماعت احمدیہ کو حاصل ہے اور اس پر حقیقی ایمان سمجھی خدا کے فضل سے صرف اور صرف احمدی ہی رکھتے ہیں۔وجہ یہ کہ قرآن مجید چودہ صدیاں قبل ون صدق جدید لکهنو هر نومبر ۱۹۶۵ء ص -