عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 58
جالی ہانسوی ضو کا چین تمدید بیان ہے کہ ۱۸۹۲ء کے مباحثہ لدھیانہ کے دوران انہوں نے یہاں تک کہ دیا کہ " اگر مرزہ ا کا قرآن سے دعوی ثابت ہو جاوے ، تو میں۔۔۔۔قرآن کو چھوڑ دوں گا اس عرصہ ہوا کہ پاکستان کے ایک مشہور اور شعلہ بیان مقرر نے جواب رب ذوالجلال کے حضور پہنچ گئے ہیں ایک جلسہ عام میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " اگر وہ سچا ہوتا اور نبوت کا دعوی کرتا تو کیا ہم مان لیتے غلام احمد کیا اگر نبی کا نواسہ حسین بھی نبوت کا دعوی کرنا۔حضرت فاطری نبوت کا دعوی کرتیں تو ہم مانتے ہے الٹے ( یعنی کبھی نہ مانتے ) ایکطرف یہ کہا اور دوسری طرف 4 جولائی ۱۹۵۷ء کو انہوں نے ایک معزز اجتماع میں یہ بیان دیا کہ لیکن ممتاز صاحب دولتانہ کو اپنا لیڈر مانتا ہوں۔۔۔۔۔۔وہ صوبہ پنجاب کی حکومت کے وزیر اعلیٰ ہیں اگر دولتانہ صاحب کہہ دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بنبوت پر ایمان لے آؤ تو میں ان پر ایمان لے آؤں گا اور مرزا بشیر الدین محمود کو خلیفہ المسیح مان لوں گا ، علاوہ ازیں شیطان کو ان الفاظ میں خراج نخستین ادا کیا " شیطان نے کتنی جرأت کا ثبوت دیا حضرت آدم کو نہیں مانا ابدی لعنت کو قبول کر لیا مگر منافقت نہ کی ھے" ن تذكرة المهدی حصہ اول ص ۳۳ سے خطبات امیر شریعت صدا ناشته مكنه تبصره د بیرون دہلی گیٹ لاہور سے بیان سید زین العابدین گیلانی سابق صدر ضلعی مسلم لیگ ملتان میونسپل کمشنر ر اشتہار ۳۰ جولائی ۶۱۹۵۲ ) کے ماہنامہ تبصره از جانباز مرزا بابت دسمبر نومبر ۱۹۶۶ء صدام