عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 38 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 38

پھر یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرم میں اپنے صحابہ کو حبشہ کی عیسائی حکومت کی طرف ہجرت کرنے کی خود ہدایت فرمائی اور حبشہ کی سرزمین کی ارض صدق ہے ، اور اس کے عیسائی بادشاہ کو ملک صالح ہونے کے نام سے یاد فرمایا۔اب اگر ان چند تحریروں کو جو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے انگریزی حکومت کی مذہبی آزادی کے بارہ میں لکھی ہیں دس کروڑ سے بھی ضرب دید کی جائے تب بھی حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک فقرہ ان سب پر بھاری ہوگا کیونکہ وہ ایک خادم کی رائے اور یہ تمام تمہیوں اور رسولوں کے شہنشاہ کا فرمان مبارک ہے ۳۔یہ مسلمات میں سے ہے کہ آسانی کتابیں صرف بیجانہ نازل ہوئیں مگر انبیاء ایک لاکھ چوبیس ہزار آئے ثابت ہوا کہ سوائے چار کے باقی جملہ انبیاء پہلی شریعت کی تعلیمات کو پھیلانے کیلئے مبعوث ہوئے تھے اس حیثیت سے اس نظریہ پر بھی مضرب کاری لگتی ہے کہ ہر نبی کی آمیا سے امت بھی بدل جاتی ہے۔قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نور سے اے این پیشام با تفسیر معالم التنريل من پاره شیعہ مجتہاد شمس العلماء علامہ سید علی الحائری کے مرغطہ تنقید میں برطانوی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا یہ ہم کو ایسی سلطنت کے زیر سایہ ہونے کا فخر حاصل ہے جسکی عدالت اور انصاف پسندی کی مثالی اور نظیر دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی۔۔۔اس میں بھی حضور پیغمبر اسلام علیہ آلہ السلام کی اس مسلمانوں کو لازم ہے کہ آپ نے بھی تو تو یہ روال عادلی کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر ملت اور فخر کے رنگ میں بیان کیا ہے