عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 29 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 29

جاتے ہیں۔- سفید جھوٹ بولا جائے۔۲۔خود ساختہ معیاروں سے صداقت کا انکار کیا جائے ۳۔ماموں کی تعلیم کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جائے۔۴۔حسان اور سید ہی بات کو موجب اعتراض بنا کر دکھایا جائے ہے۔متضاد اعتراضات کئے جائیں 4۔حق وصداقت سے کھلم کھلا مذاق رویار کھتے ہوئے اسے سب وشتم کا نشانہ بنایا جائے۔ایک تعجب خیز بات استہزاء کے یہ سب طریق ہیں جن کی متعدد مثالیں کتاب اللہ میں ملتی ہیں اور یہ تعجب خیز بات ہے کہ ۱۸۸۹ ءرلینی جماعت احمدیہ کے قیام سے لیکر اب تک کے سب عتراضات کو جمع کر کے اگر ان کا تجزیہ کیا جائے تو وہ کانوا ہے يَسْتَهْزِرُون کی قرآنی صداقت کی مکمل دافعاتی تفسیر بن جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی کہ يُكَذِّبُ فِيهَا الصَّادِقُ : ٹیک کہ خدا کے ایک خاص اور پیچھے بندے کی تکذیب کی جائیگی اسی طرح سپین کے ممتاز صوفی حضرت محی الدین ابن عربی نے فتوحات مکیہ میں مجددالف ثانی اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی نے اپنے مکتوبات میں حاجی امداد اللہ ملکی نے تمائم الدلو یہ میں نواب صدیق حسن خان قنوجی مجدد اہلحدیث کے حجم الکرامہ" میں قبل از وقت اطلاع دیدی تھی کہ مسیح موعود و مہدی مسعود کی تکفیر کی جائیگی مستدرك للحاكم جلد ۴ ص ۴۶۵ و صلاه ( مطبوعہ بیروت) هم