عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 105
"۔: 1-0 اوچھے حملوں اور فحش گالیوں سے مرقع گفت گو کسی کو قائل تو نہیں کر سکتی غصہ ضرور دلا سکتی ہے۔چنانچہ مرزائیت کیخلاف کئی ایسے مبلغین بھی ابھرے جنہوں نے عامیوں کے ذوق کو ابھار کر داد تحسین تو حاصل کر لی به فاتح قادیان اور فاتح ربوہ بھی کہلائے لیکن مرزائیت کی جڑ نہ مار سکے ے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیط گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بارا ٹھا یا سہتے اٹھایا درمندانہ اپیل اب اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درد دل سے ورودل نکلے ہوئے مبارک الفاظ پر ختم کرتا ہوں حضور فرماتے ہیں یہ ٹھٹھا کرو جس قدر چاہو۔گالیاں دو مبتقدر رچا ہو اور ایذا اور تکلیف دہی کے منصوبے سوچو جس قدر چاہو اور میرے استیصال کیلئے ہر ایک تم کی تدبیریں اور شکر سو جو جسقدر رچا ہو پھر یا د رکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دیکھا ئیگا کہ اس کا ہاتھ قالب ہے (اربعین (سمت) ملکی محض نصیحنا الله مخالف علماء اور ان کے ہمخیال لوگوں ، کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بہتے پانی کو تا طریق شرافت نہیں ہے اگر آپ کا دل کی ہیں طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپکو