عقائد احمدیت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 16

عقائد احمدیت — Page 12

کرتے اور اسے قانونِ قدرت کہتے ہیں حالانکہ وہ طبعی قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا ، کیونکہ اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے۔بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف و کمزور موسی فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آجاتا۔یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پا جاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجود برباد ہو جاتا ، پھر اگر کوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تباہی کے در پے ہوتا مگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہرحملہ دشمن سے محفوظ رکھتا اور آخر دس ہزار قد وسیوں سمیت اس سرزمین پر آپ چڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جان نثار کی معیت میں آپ کو نکالنا پڑا تھا۔کیا قانون طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے ہرگز نہیں۔وہ قانون تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہرا دنی طاقت اعلی طاقت کے مقابل پر تو ڑ دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں سے ہلاک ہوتا ہے۔۹ - ہم اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان پھر اٹھایا 12