عقائد احمدیت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 16

عقائد احمدیت — Page 11

ایک جسم بے جان رہ جاتے ہیں۔یہ نہیں ہے کہ اس نے کبھی دنیا کو پیدا کیا اور اب خاموش ہو کر بیٹھ گیا ہے بلکہ وہ ہر وقت اپنے بندوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے عجز و انکسار پر توجہ کرتا ہے اور اگر وہ اسے بھول جائیں تو وہ خود اپنا وجود انہیں یاد دلاتا ہے اور اپنے خاص پیغام رسانوں کے ذریعے اُن کو بتاتا ہے کہ اني قريب أجيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجيبو الى وليو منو بي لَعَلَّهُمْ بی يَرْشُدُوْنَ (سورة البقرہ: ۱۸۷) میں قریب ہوں۔ہر ایک پکارنے والے کی آواز کو جب وہ مجھے پکارتا ہے سنتا ہوں۔پس چاہئے کہ وہ میری باتوں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ ہدایت پائیں۔ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے ، صرف یہی قانون قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبیعی قانون کہلاتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی قوت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پتہ دیتا ہے۔یہ وہی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں 11