عقائد احمدیت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 16

عقائد احمدیت — Page 10

وقت میں ہوتے تو انہیں اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاذْ اَخَذَ الله ميثاق النبين لما اتيتكم مِنْ كِتَبٍ وَ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقَ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرله (ال عمران : ۸۲) اور جیسا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لَوْ كَانَ مُوْسَى وَعِيْسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا إِتِّبَاعِيْ - (اليواقيت و الجواهر جلد ۲ صفحه ۲۲ مطبوع مصر ۱۳۲۱ھ میں ”لما“ کی جگہ ما“ کا لفظ ہے) اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو کالفظ انہیں بھی میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ے۔ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو ٹالتا ہے اور ایک زندہ خدا ہے جس کی زندگی کو انسان ہر زمانے میں ہر وقت محسوس کرتا ہے۔اُس کی مثال اس سیڑھی کی نہیں جسے کنواں بنانے والا بنا تا ہے اور جب وہ کنواں مکمل ہو جاتا ہے تو سیڑھی کو توڑ ڈالتا ہے کہ اب وہ کسی مصرف کی نہیں رہی اور کام میں حارج ہوگی بلکہ اُس کی مثال اس نور کی ہے کہ جس کے بغیر سب کچھ اندھیرا ہے اور اس روح کی ہے جس کے بغیر چاروں طرف موت ہی موت ہے اس کے وجود کو بندوں سے جدا کر دو تو وہ 10